سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4047
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَطَّعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ ، عَاتَبَهُ اللَّهُ فِي ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ كُلَّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالزناد سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ۱؎ ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ” ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ اثر ضعیف ہے اور اس میں یہ بات کہ ابوالزناد نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عتاب کی جو بات کہی ہے غیر مناسب ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک اپنایا جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چروا ہوں کے ساتھ اپنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سلوک پر صاد کیا، صرف آنکھیں پھوڑنے کی ممانعت کر دی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔`
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ” ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4047]
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ” ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4047]
اردو حاشہ: یہ روایت ضعیف ہے۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر اظہار ناراضی کے لیے نازل نہیں ہوئی بلکہ صحیح وہی ہے جو دوسری روایات میں ذکر ہو چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھیں، اس لیے پھوڑ دیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، قصاصاً ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا ہے۔ و اللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4047 سے ماخوذ ہے۔