حدیث نمبر: 4046
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اسی طرح کا واقعہ ) نقل کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ انہیں کے سلسلے میں آیت محاربہ نازل ہوئی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4046
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 3 (4369، 4370)، (تحفة الأشراف: 7275) (حسن صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی طرح کا واقعہ) نقل کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ انہیں کے سلسلے میں آیت محاربہ نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4046]
اردو حاشہ: (1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن یہ روایت شواہد کی بنا پر حسن بن جاتی ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی شواہد کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک روایت کا حوالہ دیا ہے اور اس پر سنداً حسن ہونے کا حکم لگایا ہے، نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔ دیکھئے: (صحیح سنن النسائي للألباني، رقم: 4052، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 31/353، 354)
(2) محاربہ والی آیت سے مراد وہی آیت ہے جو ان احادیث سے پہلے ذکر کی گئی ہے، یعنی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اس سزا کا ذکر ہے جو عرینہ کے لوگوں کو دی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4046 سے ماخوذ ہے۔