حدیث نمبر: 4044
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ ، وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عروہ سے روایت ہے کہ` کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لوٹ لیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4044
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4043 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ عروہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4041 | سنن نسائي: 4047 | سنن ابي داود: 4370

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4047 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔`
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4047]
اردو حاشہ: یہ روایت ضعیف ہے۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر اظہار ناراضی کے لیے نازل نہیں ہوئی بلکہ صحیح وہی ہے جو دوسری روایات میں ذکر ہو چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھیں، اس لیے پھوڑ دیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، قصاصاً ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا ہے۔ و اللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4047 سے ماخوذ ہے۔