سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4038
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عبدالاعلی سے اسی طرح روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔`
اس سند سے بھی عبدالاعلی سے اسی طرح روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4038]
اس سند سے بھی عبدالاعلی سے اسی طرح روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4038]
اردو حاشہ: سنن نسائی کی مذکورہ بالا روایت (4037) کی سند سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن عبدالاعلیٰ یزید بن زریع سے اور وہ شعبہ سے بیان کرتے ہیں، یعنی یزید کا استاد شعبہ ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ استاد محمد بن مثنیٰ نے بھی عبدالاعلی عن شعبۃ بیان کیا ہے۔ یہ سند سنن نسائی (المجتبیٰ) میں اسی طرح ہے جبکہ سنن نسائی (الکبریٰ) میں ”شعبہ“ کے بجائے ”سعید“ ہے اور ”سعید (بن ابی عروبہ)“ ہی درست ہے جبکہ ”شعبہ“ تصحیف ہے۔ اس کی تائید صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود متفق علیہ روایت سے بھی ہوتی ہے کیونکہ ان میں ”شعبہ کے بجائے ”سعید“ ہی ہے۔ دیکھئے: (صحیح البخاري، المغازي، باب قصة عکل و عرینة، حدیث: 4192، و صحیح مسلم، القسامة و المحاربین، باب حکم المحاربین و المرتدین، حدیث: 1671)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4038 سے ماخوذ ہے۔