سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ مَا يَحِلُّ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ باب: جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 4023
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " يَا عَمَّارُ , أَمَا إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ , لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ إِلَّا ثَلَاثَةٌ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا :` عمار ! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے تین صورت کے : جان کے بدلے جان ، یا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو ، اور پھر انہوں نے آگے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔