سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4009
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ أَتَوْا مُحَمَّدًا ، فَقَالُوا : إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ , لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً ، فَنَزَلَتْ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 وَنَزَلَتْ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ سورة الزمر آية 53 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` مشرکین میں سے کے کچھ لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : آپ جو کہتے اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے کیا اس کا بھی کفارہ ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» ” جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے “ اور یہ نازل ہوئی «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم» ” اے میرے بندو جن ہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ ( الزمر : ۵۳ ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4810 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4810. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے بہت خون ناحق بہائے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے تھے، وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ یقینا اچھی چیز ہے لیکن اگر آپ ہمیں اس بات سے آگاہ کر دیں کہ اب تک ہم نے جو گناہ کیے ہیں کیا وہ معانی کے قابل ہیں، تو اللہ تعالٰی نے یہ آیات نازل فرمائیں: ’’وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو ناحق قتل بھی نہیں کرتے، جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔‘‘ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: ’’کہہ دیجیے! اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4810]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس آیت کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ، اس کے احکام و فرائض کی مطلق کوئی پرواہ نہ کرو اور اس کی حدود کو بے دردی سے پامال کرو۔
اس طرح اس کےغضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت بے وقوفی اور خام خیالی ہے۔
ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنےبندوں کے لیے غفور و رحیم ہے وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عزیز ذوانتقام بھی ہے۔
2۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی معافی کے لیے دوشرطیں ہیں: ایک تو اس کی طرف رجوع کیا جائے اور دوسری اس کے احکام کی بجا آوری ہو، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کا اعلان عام ہے، لہذا جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فائدہ اٹھانا چاہیے، نیز یہ خطاب صرف مشرکین مکہ ہی کے لیے نہیں بلکہ اس کا حکم عام ہرغیر مسلم اور گناہ گار کے لیے ہے۔
1۔
اس آیت کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ، اس کے احکام و فرائض کی مطلق کوئی پرواہ نہ کرو اور اس کی حدود کو بے دردی سے پامال کرو۔
اس طرح اس کےغضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت بے وقوفی اور خام خیالی ہے۔
ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنےبندوں کے لیے غفور و رحیم ہے وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عزیز ذوانتقام بھی ہے۔
2۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی معافی کے لیے دوشرطیں ہیں: ایک تو اس کی طرف رجوع کیا جائے اور دوسری اس کے احکام کی بجا آوری ہو، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کا اعلان عام ہے، لہذا جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فائدہ اٹھانا چاہیے، نیز یہ خطاب صرف مشرکین مکہ ہی کے لیے نہیں بلکہ اس کا حکم عام ہرغیر مسلم اور گناہ گار کے لیے ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4810 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 122 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابنِ عبّاس ؓ سے روایت ہے کہ کچھ مشرک لوگوں نے (جاہلیت کے دورمیں) بہت قتل کیے، بہت زنا کیے، پھر محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے آپؐ جو کچھ فرماتےہیں، اور جس راہ کی دعوت دیتے ہیں، بہت اچھا ہے اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ جو عمل ہم کر چکے ہیں ان کا کفارہ ہے (تو ہم ایمان لے آئیں) تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس جان کو اللہ نے محفوظ قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:322]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
حدیث کا مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں آیتوں کے بعد والی آیات کو پڑھا جائے، تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ توبہ سے (اسلام لانا بھی کفر وشرک سے توبہ ہے)
تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حدیث کا مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں آیتوں کے بعد والی آیات کو پڑھا جائے، تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ توبہ سے (اسلام لانا بھی کفر وشرک سے توبہ ہے)
تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 122 سے ماخوذ ہے۔