سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلِبِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ قَوْمًا كَانُوا قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا ، وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا , وَانْتَهَكُوا ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا مُحَمَّدُ , إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ , لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ سورة الفرقان آية 68 - 70 . قَالَ : " يُبَدِّلُ اللَّهُ شِرْكَهُمْ إِيمَانًا وَزِنَاهُمْ إِحْصَانًا " , وَنَزَلَتْ : قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ سورة الزمر آية 53 الْآيَةَ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک ( مشرک ) قوم کے لوگوں نے بہت زیادہ قتل کئے ، کثرت سے زنا کیا اور خوب حرام اور ناجائز کام کئے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہا : محمد ! جو آپ کہتے ہیں اور جس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں یقیناً وہ ایک بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ جو کچھ ہم نے کیا ہے کیا اس کا کفارہ بھی ہے ؟ ، تو اللہ تعالیٰ نے «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» سے لے کر «فأولئك يبدل اللہ سيئاتهم حسنات» تک آیت نازل فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یعنی اللہ ان کے شرک کو ایمان سے ، ان کے زنا کو عفت و پاک دامنی سے بدل دے گا اور یہ آیت «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم» نازل ہوئی “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک (مشرک) قوم کے لوگوں نے بہت زیادہ قتل کئے، کثرت سے زنا کیا اور خوب حرام اور ناجائز کام کئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: محمد! جو آپ کہتے ہیں اور جس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں یقیناً وہ ایک بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ جو کچھ ہم نے کیا ہے کیا اس کا کفارہ بھی ہے؟، تو اللہ تعالیٰ نے «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» سے لے کر «فأولئك يبدل اللہ سيئاتهم حسنات» تک آیت نازل فرمائی، آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4008]
(2) گناہوں کی زندگی میں تنگی اور بے چینی جبکہ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے میں راحت و سلامتی ہے۔