حدیث نمبر: 4005
قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ , ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ` اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کے سلسلے میں اہل کوفہ میں اختلاف ہوا تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا : تو انہوں نے کہا : وہ سب سے اخیر میں نازل ہونے والی آیتوں میں اتری اور اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4005
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء 16(4590)، تفسیرسورة الفرقان 2 (4763)، صحیح مسلم/التفسیر 16 (3023)، سنن ابی داود/الفتن 6 (4275)، (تحفة الأشراف: 5621)، ویأتی برقم: 4868 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔`
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کے سلسلے میں اہل کوفہ میں اختلاف ہوا تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: وہ سب سے اخیر میں نازل ہونے والی آیتوں میں اتری اور اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4005]
اردو حاشہ: واقعتا یہ آیت منسوخ نہیں، مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سزائیں تب ہیں جب وہ توبہ نہ کرے یا اللہ تعالیٰ اسے معاف نہ فرمائے، جیسے اگر قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے تو بالاتفاق اسے سزا نہیں ملے گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4005 سے ماخوذ ہے۔