سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ , فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , هَذَا قَتَلَنِي . فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : لِمَ قَتَلْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لَكَ . فَيَقُولُ : فَإِنَّهَا لِي ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ , فَيَقُولُ : إِنَّ هَذَا قَتَلَنِي . فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : لِمَ قَتَلْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ . فَيَقُولُ : إِنَّهَا لَيْسَتْ لِفُلَانٍ . فَيَبُوءُ بِإِثْمِهِ ".
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) آدمی آدمی کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ وہ کہے گا : میں نے اسے اس لیے قتل کیا تھا تاکہ عزت و غلبہ تجھے حاصل ہو ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : وہ یقیناً میرے ہی لیے ہے ، ایک اور شخص ایک شخص کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا : اس نے مجھے قتل کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ وہ کہے گا : تاکہ عزت و غلبہ فلاں کا ہو ، اللہ فرمائے گا : وہ تو اس کے لیے نہیں ہے ۔ پھر وہ ( قاتل ) اس کا ( جس کے لیے قتل کیا اس کا ) گناہ سمیٹ لے گا “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (قیامت کے دن) آدمی آدمی کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے اسے اس لیے قتل کیا تھا تاکہ عزت و غلبہ تجھے حاصل ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ یقیناً میرے ہی لیے ہے، ایک اور شخص ایک شخص کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا: اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4002]
(2) اس حدیث میں دو قسم کے قاتلوں کا ذکر ہے: ایک وہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی خاطر کسی کافر کو قتل کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر یہ قتل جائز ہے بلکہ اس سے ثواب حاصل ہو گا، مثلاً: جہاد کے دوران میں یا حدود کے نفاذ کی خاطر۔ دوسرا قتل جو حکومت، سرداری، انا اور عزت کی خاطر کیا جاتا ہے (اپنی ہو یا کسی کی)۔ یہ قتل جرم ہے۔ اس قاتل کو اپنے کیے کی سزا بھگتنی ہو گی۔