حدیث نمبر: 3992
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کا زوال اور اس کی بربادی کسی مسلمان کو ( ناحق ) قتل کرنے سے زیادہ حقیر اور آسان ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 3992
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الدیات 7 (1395)، (تحفة الأشراف: 8887) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3991 | سنن ترمذي: 1395 | معجم صغير للطبراني: 926

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3991 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی مومن کا (ناحق) قتل اللہ کے نزدیک پوری دنیا تباہ ہونے سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابراہیم بن مہاجر زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3991]
اردو حاشہ: یعنی اگر دنیا مومنین کے بغیر فرض کر لی جائے تو دنیا و مافیہا کی تباہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مومن کی جان ناحق ضائع ہونے سے ہلکی ہے۔ یا کوئی بالفرض ساری دنیا جو مومنین سے خالی فرض کر لیا جائے، کو ہلاک کر دے تو اس کا گناہ ایک مومن کے ناحق قتل کے گناہ سے بہت کم ہے۔ مقصد مومن اور ایمان کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے جسے اس فرضی صورت سے ظاہر کر دیا گیا ہے۔ عرف میں یہ انداز عام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3991 سے ماخوذ ہے۔