حدیث نمبر: 3987
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَوْسًا ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ ، فَكُنْتُ مَعَهُ فِي قُبَّةٍ ، فَنَامَ مَنْ كَانَ فِي الْقُبَّةِ غَيْرِي , وَغَيْرُهُ , فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " . فَقَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : يَشْهَدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرْهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " . قَالَ مُحَمَّدٌ : فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ : أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ، " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : أَظُنُّهَا مَعَهَا وَلَا أَدْرِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں قبیلہ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں آپ کے ساتھ ایک خیمہ میں تھا ، میرے اور آپ کے علاوہ خیمے میں موجود سبھی لوگ سو گئے ۔ اتنے میں ایک شخص نے آپ سے چپکے سے کہا تو آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے قتل کر دو “ ۱؎ ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں “ ۔ اس نے کہا : وہ گواہی دے رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو “ پھر فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا اللہ» نہ کہیں : جب وہ یہ کہنے لگ جائیں تو ان کے خون ، ان کے مال حرام ہو گئے مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے “ ۔ محمد ( محمد بن جعفر غندر ) کہتے ہیں : میں نے شعبہ سے کہا : کیا حدیث میں یہ نہیں ہے ” «أليس يشهد أن لا إله إلا اللہ وأني رسول اللہ» ؟ “ وہ بولے : میرے خیال میں «أني رسول اللہ» کا جملہ «لا إله إلا اللہ» کے ساتھ ہے ، مجھے معلوم نہیں ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حدیث نمبر ۳۹۸۴ میں «فاقتلوہ» میں جو «ہ» ضمیر ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے متعلق اس نے رازدارانہ سرگوشی کی تھی، نہ کہ بذات خود سرگوشی کرنے والا مراد ہے، کیونکہ «اذھب فاقتلہ» کا جملہ صریح طور پر اسی مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 3987
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3985 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3929 | سنن نسائي: 3988

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3929 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا۔`
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جا کر قتل کر دو ، جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر واپس بلایا، اور پوچھا: کیا تم «لا إله إلا الله» کہتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لا إ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3929]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبیﷺ نے سرگوشی کرنے والے کی بات سے یہ سمجھا کہ یہ شخص دل سے مسلمان نہیں بعد میں اس کے ظاہری اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اسے چھوڑدیا۔
امام سیوطی ؒ اس کی بابت لکھتے ہیں: زیادہ صحیح تشریح یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو اجازت تھی کہ کسی سے اس کی دلی کیفیات کے مطابق سلوک کریں، چنانچہ اس کے مطابق عمل کرنے کا ارادہ فرمایا (کفر کی بنا پر قتل کرنا چاہا)
پھر نبی ﷺ کو یہ بات بہتر محسوس ہوئی کہ ظاہر پرعمل کیاجائے (اس کے ظاہری اسلام کی وجہ سے مسلمانوں والا سلوک کیاجائے)
کیونکہ یہ قانون نبیﷺ اور امت سب کے لیے ہے اس لیے آپ اس طرف مائل ہوگئے اور باطن (کی حقیقی کیفیت)
کے مطابق عمل سےاجتناب فرمایا۔ (شرح سنن نسائي كتاب تحريم الدم)

(2)
سنن نسائی کے اس باب میں حضرت اوس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی مروی ہے۔
حضرت اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں قبیلہ ثقیف کے وفد میں شامل ہوکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
میں خیمے میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا۔
میرے اور نبی ﷺ کے سوا خیمے کے سب افراد سوگئے۔ (اس تنہائی کے وقت)
ایک آدمی نے آ کر چپکے سے بات کی۔
نبی ﷺ نے فرمایا جا اسے قتل کردے۔
پھر فرمایا: کیا وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کی اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا: گواہی دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑدے۔
پھر آپ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں حتی کہ وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کہیں۔
جب وہ اس کا اقرار کر لیں توا ن کے خون اور ان کے مال (مسلمانوں پر)
حرام ہوگئے مگر اس حق کے ساتھ۔ (سنن نسائي، المحاربة، باب تحريم الدم، حديث: 3987)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3929 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3988 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خون کی حرمت کا بیان۔`
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (جب وہ اس کی گواہی دے دیں گے تو) پھر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہو جائیں گے مگر اس کے (جان و مال کے) حق کے بدلے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3988]
اردو حاشہ: قابل احترام ہو جاتے ہیں نہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے نہ زخمی، نہ ان کی بے عزتی کی جا سکتی ہے اور نہ ان کا مال ان کی مرضی کے بغیر لیا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر ان کے ذمے کسی کا حق بنتا ہو تو وہ انہیں ادا کرنا ہو گا، مثلاً: انہوں نے کسی کو قتل یا زخمی کیا ہو تو انہیں قصاص یا دیت دینی پڑے گی۔ اسی طرح ان کے ذمے کسی کا مالی حق واجب الادا ہے تو وہ حکومت زبردستی بھی دلائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3988 سے ماخوذ ہے۔