سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : تَحْرِيمِ الدَّمِ باب: خون کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ , فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ " , ثُمَّ قَالَ : " أَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِنَّمَا يَقُولُهَا تَعَوُّذًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلُوهُ , فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ , وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ سے رازدارانہ گفتگو کی ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ؟ “ کہا : جی ہاں ، مگر اپنے کو بچانے کے لیے وہ ایسا کہتا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے قتل نہ کرو ۔ اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں : جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال کو محفوظ کر لیا ، مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ سے رازدارانہ گفتگو کی۔ آپ نے فرمایا: ” اسے قتل کر دو “، پھر آپ نے فرمایا: ” کیا وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں؟ “ کہا: جی ہاں، مگر اپنے کو بچانے کے لیے وہ ایسا کہتا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے قتل نہ کرو۔ اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں: جب وہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3984]
(2) ”اسے قتل کر دو“ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی شکایت کی گئی تھی، لیکن پھر پتا چلا کہ اس نے کلمہ پڑھ لیا ہے اور مسلمان ہو چکا ہے تو آپ نے اپنا پہلا حکم واپس فرما لیا کیونکہ مسلمان کا قتل ناجائز ہے۔
(3) اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو مسلمانوں کو ان کے بعض تاویلی عقائد کی وجہ سے کافر سمجھتے ہیں اور ان کے قتل کو جائز بلکہ کار ثواب جانتے ہیں۔ یاد رہے حدود اللہ کا نفاذ حکومت کا کام ہے افراد کا نہیں اور اسلام میں مقررہ حدود کے علاوہ کسی مسلمان کو کسی عقیدے یا عمل کی وجہ سے قتل کرنا عظیم گناہ ہے۔ قاتل جہنمی ہو گا، خواہ وہ کتنے ہی خوش نما نعرے کی بنیاد پر قتل کرے۔
(4) ”حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے“ کیونکہ یہ اس کا منصب ہے، ہمارا منصب نہیں۔ حدود شرعیہ کے علاوہ باقی عقائد اور گناہوں کی سزا اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ ہم اس میں دخل نہیں دے سکتے۔
(5) اگر کوئی مسلمان شرک یا کفر کا ارتکاب کرے تو اسے اسلام کی دعوت دے کر اس پر حجت قائم کی جائے گی اور اگر وہ اپنے شرک و کفر پر اصرار کرے تو شرعی عدالت اس کے قتل کا حکم جاری کر دے۔