حدیث نمبر: 3957
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَيْدَ بْنَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ يَذْكُرُ : " أَنَّهُمْ مَنَعُوا الْمُحَاقَلَةَ وَهِيَ أَرْضٌ تُزْرَعُ عَلَى بَعْضِ مَا فِيهَا " . رَوَاهُ عِيسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن ہرمز کہتے ہیں کہ` میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری کو بیان کرتے سنا کہ انہیں ( یعنی صحابہ کو ) بیع محاقلہ سے روک دیا گیا ہے ، بیع محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کھیتی کرنے کے لیے دے دیا جائے ۔ اسے عیسیٰ بن سہل بن رافع نے بھی روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المزارعة / حدیث: 3957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔`
عبدالرحمٰن بن ہرمز کہتے ہیں کہ میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری کو بیان کرتے سنا کہ انہیں (یعنی صحابہ کو) بیع محاقلہ سے روک دیا گیا ہے، بیع محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کھیتی کرنے کے لیے دے دیا جائے۔ اسے عیسیٰ بن سہل بن رافع نے بھی روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3957]
اردو حاشہ: محاقلہ کے ایک معنیٰ حدیث:3910 میں بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے معنیٰ اس حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ حقل کے معنیٰ بھی یہی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3957 سے ماخوذ ہے۔