سنن نسائي
كتاب المزارعة— کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3894
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ , وَالْحَقْلُ : الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ : شِرَاءُ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار پر ( کھیتوں کو ) بٹائی پر دینے سے اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ، مزابنہ درختوں میں لگے کھجوروں کو اتنے اور اتنے میں ( یعنی معین ) وسق کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔`
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار پر (کھیتوں کو) بٹائی پر دینے سے اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ درختوں میں لگے کھجوروں کو اتنے اور اتنے میں (یعنی معین) وسق کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3894]
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار پر (کھیتوں کو) بٹائی پر دینے سے اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ درختوں میں لگے کھجوروں کو اتنے اور اتنے میں (یعنی معین) وسق کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3894]
اردو حاشہ: مزابنہ سے منع فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کسی ایک فریق کو نقصان کا احتمال ہے۔ نہ معلوم درخت پر موجود پھل خشک معین پھل کے برابر نہ ہویا نہ۔ اس احتمال کی بنا پر اس سے منع فرما دیا گیا تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3894 سے ماخوذ ہے۔