سنن نسائي
كتاب الأيمان والنذور— ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
بَابُ : الاِسْتِثْنَاءِ باب: قسم میں استثنا یعنی ”ان شاءاللہ“ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3886
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَقَدِ اسْتَثْنَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی بات کی قسم کھائے ، پھر وہ ان شاءاللہ کہے تو اس نے استثناء کر لیا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1532 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قسم میں ان شاءاللہ کہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا، وہ «حانث» نہیں ہوا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1532]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا، وہ «حانث» نہیں ہوا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1532]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس نے قسم نہیں توڑی، اور ایسی قسم توڑنے سے اس پر کفارہ نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اس نے قسم نہیں توڑی، اور ایسی قسم توڑنے سے اس پر کفارہ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1532 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2104 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قسم میں ان شاءاللہ کہنے کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے قسم کھائی، اور «إن شاء الله» کہا، تو اس کا «إن شاء الله» کہنا اسے فائدہ دے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2104]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے قسم کھائی، اور «إن شاء الله» کہا، تو اس کا «إن شاء الله» کہنا اسے فائدہ دے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2104]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ان شاء اللہ کہنے سے قسم ختم ہو جاتی ہے پھر اگر وہ کام نہ کیا جائے جس کا ذکر کیا گیا تھا تو قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا اور کفارہ نہیں دینا پڑے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قسم تاکیدی عزم ظاہر کرنے کے لیے ہوتی ہے اور ان شاء اللہ کا مطلب ہے اگر اللہ نے چاہا تو میں ایسا کروں گا۔
اور مستقبل کے کاموں میں بندے کو اللہ کی مرضی معلوم نہیں ہوتی تو اس میں گویا اس عزم کی نفی ہے اور یہ احتمال آ گیا کہ ممکن ہے میں یہ کام کرسکوں یا نہ کرسکوں۔
فوائد و مسائل:
ان شاء اللہ کہنے سے قسم ختم ہو جاتی ہے پھر اگر وہ کام نہ کیا جائے جس کا ذکر کیا گیا تھا تو قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا اور کفارہ نہیں دینا پڑے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قسم تاکیدی عزم ظاہر کرنے کے لیے ہوتی ہے اور ان شاء اللہ کا مطلب ہے اگر اللہ نے چاہا تو میں ایسا کروں گا۔
اور مستقبل کے کاموں میں بندے کو اللہ کی مرضی معلوم نہیں ہوتی تو اس میں گویا اس عزم کی نفی ہے اور یہ احتمال آ گیا کہ ممکن ہے میں یہ کام کرسکوں یا نہ کرسکوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2104 سے ماخوذ ہے۔