سنن نسائي
كتاب الأيمان والنذور— ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
بَابُ : كَفَّارَةِ النَّذْرِ باب: نذر کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3877
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا , لَا يَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا ، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہو گا ، تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے “ ۔