حدیث نمبر: 385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی ، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی ، اور اس کو بچھا دیتی ۱؎ وہ حائضہ ہوتی ۔

وضاحت:
۱؎: بغیر مسجد میں داخل ہوئے اور یہ ممکن ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الحيض والاستحاضة / حدیث: 385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 274 (حسن)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حائضہ کے مسجد میں چٹائی بچھانے کا بیان۔`
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ۱؎ وہ حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 385]
385۔ اردو حاشیہ: ہمارے فاضل محقق نے اسی روایت کو، جو کہ اس سے قبل کتاب الطھارۃ، باب بسط الحائظ الخمیرۃ في المسجد میں بھی گزر چکی ہے، سنداً ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ یہاں پر اسے صحیح قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں پر شیخ کو وہم ہوا ہے کیونکہ یہ روایت دیگر محققین کے نزدیک بھی صحیح ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث: 274 کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 385 سے ماخوذ ہے۔