سنن نسائي
كتاب الأيمان والنذور— ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّذْرِ فِيمَا لاَ يُرَادُ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ باب: ایسی چیز کی نذر ماننا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ , فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ , فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , ثُمَّ قَالَ : " قُدْهُ بِيَدِكَ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا ، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آدمی ) کے پاس سے گزرے ، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا : ” اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس (آدمی) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3842]
یہ تکلیف بالاتفاق ہے جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
(1)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے تو آپ نے ایک انسان کو دیکھا جس کا ہاتھ دوسرے انسان کے ساتھ رسی وغیرہ سے بندھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی کاٹ دی اور فرمایا: ’’اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر چلو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1620) (2)
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نذر مانی تھی کہ اس انداز سے بیت اللہ کا طواف کرے گا جیسا کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
(سنن النسائي، الأیمان والنذور، حدیث: 3841، و فتح الباري: 718/11)
بہرحال ایسی نذر کو پورا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں جس سے خواہ مخواہ خود کو تکلیف میں ڈالنا مقصود ہو۔
واللہ أعلم
یعنی طلق بن شبراور ایک رسی سے دونوں بندھے ہوئے تھے۔
آپ نے حال پوچھا تو شبر کہنے لگا کہ میں حلف کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ میرا مال اور میری اولاد دلادے گا تو میں بندھا ہوا حج کروں گا۔
آنحضرت ﷺ نے وہ رسی کاٹ دی اور فرمایا دونوں حج کرو مگر یہ باندھنا شیطانی کام ہے۔
حدیث سے یہ نکلا کہ طواف میں کلام کرنا درست ہے کیونکہ آپ نے عین طواف میں فرمایا کہ ہاتھ پکڑ کرلے چل (وحیدی)
(1)
طواف اگرچہ نماز کی طرح ہے، تاہم اس میں گفتگو کرنا جائز ہے۔
لیکن وہ گفتگو بامقصد ہو، فضول اور لچر قسم کی نہ ہو۔
(2)
حدیث میں اگرچہ کسی خاص غرض سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے لیکن امام بخاری ؒ نے مطلق گفتگو کا باب باندھا ہے۔
شاید ان کا اس حدیث کی طرف اشارہ مقصود ہو جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بیت اللہ کا طواف کرنا نماز کی طرح ہے، البتہ اس میں اللہ تعالیٰ نے گفتگو کو جائز قرار دیا ہے، لہذا دوران طواف میں جو گفتگو کرے وہ کسی کی خیرخواہی پر ہی مبنی ہو۔
‘‘ (جامع الترمذي، الحج، حدیث: 960)
بہتر ہے کہ دوران طواف میں اللہ کا ذکر اور قرآن کریم کی تلاوت کی جائے، گفتگو سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔
(فتح الباري: 609/3)
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ ایک آدمی دوسرے شخص کو دوران طواف میں اس کی ناک میں نکیل ڈال کر کھینچ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی رسی کو کاٹ کر فرمایا: ’’اسے ہاتھ سے پکڑ کر چلو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6703) (2)
ممکن ہے کہ اس شخص نے نذر مانی ہو کہ میں اس انداز سے حج کروں گا۔
دور جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اس طرح حج کرنے سے انسان اللہ کا مقرب بن جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کو باطل قرار دیا۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر دوران طواف کوئی برا کام دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکا جا سکتا ہے اور ایسا کرنے سے طواف میں کوئی نقص نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3302]
کسی کا نکیل ڈال کرچلنا یا اسے چلانا انسانی شرف کی توہین ہے۔
اسلامی شریعت اور اس قسم کی جہالتوں سے انسانوں کو آزاد کرنے کےلئے آئے ہیں۔
(وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ) (الأعراف:157) اور آپ(ﷺ) ان لوگوں پرجو بوجھ اور طوق تھے ان کو اتارتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2923]
(2) "نکیل ڈال کر" نکیل ڈال کر چلنا چلانا بھی زہد اور عبادت کا ایک حصہ سمجھ لیا گیا تھا، مگر نکیل جانور کو ڈالی جاتی ہے، انسان کو نہیں کیونکہ وہ سننے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے زبان سے سمجھایا جائے یا ہاتھ سے پکڑ کر چلایا جائے۔ انسانوں کے لیے جانوروں کی مشابہت فطرت انسانیہ کے خلاف ہے۔ اسلام جو کہ دین فطرت ہے، ایسے برے کام کو عبادت کے نام پر کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ اس لیے آپ نے روکا۔