حدیث نمبر: 3841
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلًا فِي قَرَنٍ , فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَطَعَهُ , قَالَ : إِنَّهُ نَذْرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا ، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا : ” یہ نذر ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی نذر اس طرح سے بھی ادا ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3841
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ دون قوله إنه نذر , شیخ زبیر علی زئی: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ایسی چیز کی نذر ماننا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نہ ہو۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3841]
اردو حاشہ: ایسے کام کی نذر پوری کرنا ضروری ہے جو نیکی اور تقرب والا ہو۔ اس قسم کی فضول نذر جس سے سوائے مشقت اور ذلت کے کچھ حاصل نہ ہو‘ نہ نذر ماننے واے کو کوئی فائدہ ہو اور نہ کسی دوسرے کو‘ یہ لایعنی نذر ہے۔ اسے پورا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بے فائدہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3841 سے ماخوذ ہے۔