سنن نسائي
كتاب الأيمان والنذور— ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
بَابُ : الْحَلِفِ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى باب: لات و عزّیٰ (نامی بتوں) کی قسم کھانے پر کیا کرے؟
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فقال لِي أَصْحَابِي : بِئْسَ مَا قُلْتَ , قُلْتَ هُجْرًا . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَانْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا , وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ لَا تَعُدْ " .
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا : تم نے بری بات کہی ہے ، تم نے فحش بات کہی ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” کہو : «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “ اور تین بار بائیں طرف تھوک لو اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور پھر کبھی ایسا نہ کرنا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ” کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3808]
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3807]
(2) عزیٰ بھی ایک بت تھا جس کی پوجا عام تھی۔ جاہلیت میں بتوں کی قسمیں کھانے کا رواج تھا۔ انہوں نے بھی بلاقصد عادتاً ایسی قسم کھالی۔ (تفصیل سابقہ حدیث میں دیکھیے)۔
(3) کسی شخص سے گناہ ہوجائے تو اس پر استغفار کرنا واجب ہے اور دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب بھی نہ کرے کیونکہ یہ توبہ کی شروط میں ہے۔