حدیث نمبر: 3805
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ ، اور نہ طاغوتوں ( جھوٹے معبودوں ) کی “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الأیمان 2 (1648)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2095)، (تحفة الأشراف: 9697)، مسند احمد (5/62) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1648 | سنن ابن ماجه: 2095

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´طاغوت اور جھوٹے معبودوں کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں (جھوٹے معبودوں) کی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3805]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3800۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3805 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1648 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بتوں اور اپنے باپوں کی قسم نہ اٹھاؤ۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4262]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: طاغیہ سے مراد صنم اور بت ہے، کیونکہ، وہ کفار کے شرک و سرکشی کا سبب ہے، اور طغیان کا معنی حدود سے تجاوز کرنا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿لَمَّا طَغَى الْمَاءُ﴾ جب پانی حد سے بڑھ گیا، اس لیے اس کا اطلاق تمام معبودان باطلہ پر ہو جاتا ہے، اس لیے ضلالت کا ہر سرغنہ طاغیہ ہے، مقصود یہی ہے، معبودان باطلہ کی قسم نہ اٹھاؤ، اور قسم کی تین قسمیں ہیں۔
(1)
يمين غموس: شعوری طور پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھانا ہے، جو انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
(2)
يمين لغو: یعنی وہ قسم جو انسان کی زبان پر چڑھی ہونے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر نکل جاتی ہے، یا انسان اپنے شعور اور علم کے مطابق سچی قسم اٹھائے، جبکہ درحقیقت، وہ جھوٹی ہو، (3)
يمين منعقده: آئندہ زمانہ یا مستقبل کے بارے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا، اس کا پورا کرنا ضروری ہے، اگر گناہ نہ ہو، وگرنہ کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1648 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2095 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت۔`
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ طاغوتوں (بتوں) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2095]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  (طواغي)
کا واحد (طاغیة)
ہے، یعنی سرکش۔
بت کو طاغیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بندوں کے شرک اور سرکشی کا باعث بنتا ہے۔

(2)
  بت کی قسم اصل میں اس شخص کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کھائی جاتی ہے جس کی صورت پر وہ بت بنایا گیا ہے، اس طرح یہ بھی اصل میں بزرگوں اور پیروں کی قسم ہے۔
اور غیراللہ کی قسم حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2095 سے ماخوذ ہے۔