حدیث نمبر: 3789
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ الثَّقَفِّيِّ ، قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ ثَقِيفٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُمْ هَدِيَّةٌ ، فَقَالَ : " أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ ، فَإِنْ كَانَتْ هَدِيَّةٌ فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَاءُ الْحَاجَةِ ، وَإِنْ كَانَتْ صَدَقَةٌ فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالُوا : لَا بَلْ هَدِيَّةٌ فَقَبِلَهَا مِنْهُمْ وَقَعَدَ مَعَهُمْ يُسَائِلُهُمْ وَيُسَائِلُونَهُ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ مَعَ الْعَصْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن علقمہ ثقفی کہتے ہیں کہ` قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، ان کے ساتھ کچھ ہدیہ بھی تھا ۔ آپ نے ان سے پوچھا : یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ضروریات کی تکمیل مطلوب اور پیش نظر ہے ، اور اگر صدقہ ہے تو اس سے اللہ عزوجل کی خوشنودی مطلوب و مقصود ہے ۔ ان لوگوں نے کہا : یہ ہدیہ ہے ، تو آپ نے اسے ان سے قبول فرما لیا اور ان کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور وہ لوگ آپ سے مسئلہ مسائل پوچھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ظہر عصر کے ساتھ ملا کر پڑھی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ اور اس کے بعد کی تینوں حدیثیں متفرق ابواب کی ہیں، ان کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب العمرى / حدیث: 3789
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو حذيفة وعبدالملك: مجهولان (تقريب: 8041،4209) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9707) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ عبدالملک ‘‘ مجہول ہیں، نیز ’’ عبدالرحمٰن بن علقمہ‘‘ کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ تابعی ہیں)»