سنن نسائي
كتاب العمرى— کتاب: عمریٰ کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنِ الْعُمْرَى ، فَقُلْتُ : حَدَّثَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، قَالَ : " قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ قَتَادَةُ : قُلْتُ : حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَقُلْتُ كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَقَالَ الزُّهْرِيُّ : " إِنَّمَا الْعُمْرَى إِذَا أُعْمِرَ وَعَقِبُهُ مِنْ بَعْدِهِ فَإِذَا لَمْ يَجْعَلْ عَقِبَهُ مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لِلَّذِي يَجْعَلُ شَرْطَهُ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ قَتَادَةُ : فَسُئِلَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " , قَالَ قَتَادَةُ : فَقَالَ الزُّهْرِيُّ : " كَانَ الْخُلَفَاءُ لَا يَقْضُونَ بِهَذَا " ، قَالَ عَطَاءٌ : قَضَى بِهَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ .
´قتادہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا : محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہو گا ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” عمریٰ نافذ ہو گا “ ، قتادہ کہتے ہیں : میں نے کہا : حسن بصری کہتے تھے کہ عمریٰ نافذ ہو گا ( جس کے لیے عمریٰ کیا جاتا ہے وہ چیز اسی کی ہمیشہ کے لیے ہو جاتی ہے ) ۔ قتادہ کہتے ہیں : زہری نے کہا کہ جب عمریٰ کسی کو زندگی بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے دیا جائے ( تو وہ دینے والے کو نہ ملے گا ) اور جب دینے والے نے اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے نہ کہا ہو تو وہ اس کے نہ رہنے کے بعد اس کو ملے گا جس کی شرط دینے والے نے لگا دی ہو ۔ قتادہ کہتے ہیں : عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے جابر بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ نافذ ہو گا “ ، قتادہ کہتے ہیں کہ زہری نے کہا : خلفاء اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تھے ، تو عطاء نے کہا : اس کے مطابق عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہو گا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” عمریٰ نافذ ہو گا “، قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3786]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہو جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2379]
فوائد و مسائل:
(1)
اہل عرب بعض اوقات کسی پراحسان کرتےہوئے اسے کہہ دیتےتھے: ’’میں تمھیں اپنے اس گھر میں زندگی بھررہنے کی اجازت دیتاہوں۔‘‘
مطلب یہ ہوتا تھا کہ تمھاری وفات کےبعد یہ گھر دوبارہ مجھے یا میرے وارثوں کو مل جائےگا۔
اسے عمریٰ کہتےتھے۔
(2)
رسول اللہﷺ نےعمریٰ کوعام ہبہ کےحکم میں کردیا۔
اب ایک چیز جسے دے دی گئی وہ اسی کی ہوگئی۔
اس پریہ شرط لگانا درست نہیں کہ تمھارے مرنےکےبعد مجھے واپس مل جائے گی۔