سنن نسائي
كتاب الرقبى— کتاب: رقبیٰ (یعنی زندگی سے مشروط ہبہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ باب: اس حدیث میں ابوالزبیر (راوی) پر رواۃ اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3742
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَا تَحِلُّ الرُّقْبَى ، وَلَا الْعُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ وَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رقبیٰ اور عمریٰ جائز نہیں ہیں ۱؎ لیکن اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ کسی کو دی تو وہ اسی کی ہو جائے گی جسے عمریٰ میں دی گئی ہے ، اور جس نے کسی کو کوئی چیز رقبیٰ کی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی جسے اس نے رقبیٰ کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایسا کرنا مصلحتا کسی کے لیے مناسب نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں ابوالزبیر (راوی) پر رواۃ اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ اور عمریٰ جائز نہیں ہیں ۱؎ لیکن اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ کسی کو دی تو وہ اسی کی ہو جائے گی جسے عمریٰ میں دی گئی ہے، اور جس نے کسی کو کوئی چیز رقبیٰ کی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی جسے اس نے رقبیٰ کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الرقبى/حدیث: 3742]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ اور عمریٰ جائز نہیں ہیں ۱؎ لیکن اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ کسی کو دی تو وہ اسی کی ہو جائے گی جسے عمریٰ میں دی گئی ہے، اور جس نے کسی کو کوئی چیز رقبیٰ کی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی جسے اس نے رقبیٰ کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الرقبى/حدیث: 3742]
اردو حاشہ: ”حلال نہیں۔“ یعنی رائج صورت میں۔ ویسے بھی عطیہ کی کوئی اچھی صورتیں نہیں۔ دیکھیے‘ حدیث: 3738۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3742 سے ماخوذ ہے۔