حدیث نمبر: 3738
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ طَاوُسٍ لَعَلَّهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَا رُقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رقبیٰ ( مصلحتاً جائز ) نہیں ہے ( لیکن اگر کسی نے کر دیا ہے ) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا ، دینے والے کو واپس نہ ہو گا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الرقبى / حدیث: 3738
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5728)، مسند احمد (1/250) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس باب میں زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث میں علی بن أبی نجیح پر اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ (مصلحتاً جائز) نہیں ہے (لیکن اگر کسی نے کر دیا ہے) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا، دینے والے کو واپس نہ ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الرقبى/حدیث: 3738]
اردو حاشہ: (1) رقبیٰ واپس نہیں آئے گا۔ یعنی رقبیٰ کی رائج صورت معتبر نہیں۔ دوسرے معنیٰ یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ رقبیٰ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ عطیہ کی اچھی صورت نہیں۔ لیکن اگر کو ئی شخص کرے گا تو واپس کی شرط غیر معتبر ہوگی بلکہ جسے دے دیا گیا تھا‘ اس کے ورثاء کو اس کی وفات کے بعد مل جائے گا۔
(2) شاید عبدالجبار بن علاء کو شک ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3738 سے ماخوذ ہے۔