سنن نسائي
كتاب الهبة— کتاب: ہبہ کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى طَاوُسٍ فِي الرَّاجِعِ فِي هِبَتِهِ باب: طاؤس کی روایت «الرَّاجِعِ فِي هِبَتِهِ‘» میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَهَبُ هِبَةً ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ " ، قَالَ طَاوُسٌ : كُنْتُ أَسْمَعُ الصِّبْيَانَ يَقُولُونَ : يَا عَائِدًا فِي قَيْئِهِ ، وَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ ذَلِكَ مَثَلًا حَتَّى بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : مَثَلُ الَّذِي يَهَبُ الْهِبَةَ ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ قَيْئَهُ .
´تابعی طاؤس سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے پھر اسے واپس لے لے سوائے باپ کے “ ۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں بچوں کو کہتے ہوئے سنتا تھا «يا عائدا في قيئه» ! اے اپنی قے کے چاٹنے والے ، اور نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال دی ہے یہاں تک کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” اس شخص کی مثال جو ہبہ دے کر واپس لے لیتا ہے “ ، اور راوی نے کچھ ایسی بات ذکر کی جس کے معنی یہ تھے کہ اس کی مثال کتے کی ہے جو اپنے قے کو کھا لیتا ہے ۔