حدیث نمبر: 3700
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10 ، قَالَ : كَانَ يَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ الْيَتِيمُ فَيَعْزِلُ لَهُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَآنِيَتَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ سورة البقرة آية 220 فِي الدِّينِ , فَأَحَلَّ لَهُمْ خُلْطَتَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما` آیت کریمہ : «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «وإن تخالطوهم فإخوانكم‏» ” اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں “ ( البقرہ : ۲۲۰ ) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الوصايا / حدیث: 3700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2871) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5574) (حسن)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´یتیم کے مال میں اس کے نگراں اور محافظ کا کیا حق ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «وإن تخالطوهم فإخوانكم‏» اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں (البقرہ: ۲۲۰) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دی [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3700]
اردو حاشہ: ہر معاشرے میں یتیم بچے‘ اگر ایک دو ہوں‘ تو وہ دوسرے گھر والوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ان کا کھانا پینا بھی مشترکہ ہی ہوتا ہے۔ اس میں ان کا فائدہ ہے۔ اگر ان کا کھانا پینا الگ ہو تو زیادہ اخراجات آتے ہیں۔ عرب میں بھی ایسے ہی تھا۔ جب یہ آیت اتری تو لوگ ڈر گئے کہ کہیں یتیم بچوں کی کوئی چیز ہمارے پیٹ میں نہ چلی جائے‘ لہٰذا انہوں نے بطور تقویٰ یتیم بچوں کا کھانا پینا الگ کردیا‘ حالانکہ شریعت کا منشا صراحت فرما دی کہ نیت خیرخواہی اور ہمدردی کی ہو تو انہیں اپنے ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اصل مقصد تو یتیموں کا بھلا ہی ہے جیسے بھی ممکن ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3700 سے ماخوذ ہے۔