سنن نسائي
كتاب الوصايا— کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا لِلْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا قَامَ عَلَيْهِ باب: یتیم کے مال میں اس کے نگراں اور محافظ کا کیا حق ہے؟
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152, وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10 ، قَالَ : اجْتَنَبَ النَّاسُ مَالَ الْيَتِيمِ وَطَعَامَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ سورة البقرة آية 220 , إِلَى قَوْلِهِ :لأَعْنَتَكُمْ سورة البقرة آية 220 .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` جب آیت کریمہ : «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ” یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام : ۱۵۲ ) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ” اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں “ ( النساء : ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے ۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی ، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير» سے «لأعنتكم» ” اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا ، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے “ ( البقرہ : ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ” یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو (یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے) “ (الأنعام: ۱۵۲) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ” اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں (وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں “ (النساء: ۱۰) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3699]