حدیث نمبر: 368
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قال : قالت أُمُّ عَطِيَّةَ : " كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام عطیہ رضی اللہ عنہا ( نسیبہ ) کہتی ہیں کہ` ہم لوگ زردی اور مٹیالا پن کو کچھ نہیں شمار کرتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا شمار حیض میں نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الحيض والاستحاضة / حدیث: 368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحیض 25 (326) ، سنن ابی داود/الطھارة 199 (308) ، سنن ابن ماجہ/فیہ 127 (647) ، (تحفة الأشراف 18096) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زرد اور مٹیالے رنگ کے حیض میں داخل نہ ہونے کا بیان۔`
ام عطیہ رضی اللہ عنہا (نسیبہ) کہتی ہیں کہ ہم لوگ زردی اور مٹیالا پن کو کچھ نہیں شمار کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 368]
368۔ اردو حاشیہ: ➊ مذکورہ حدیث سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ کدرہ اور صفرہ حیض نہیں، مگر یہ بات مطلقاً درست نہیں کیونکہ اس موضوع کی دیگر روایات کو جمع کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر زرد اور مٹیالا پانی حیض کے ساتھ ہوں تو سفید پانی آنے تک انہیں حیض ہی شمار کیا جائے گا، البتہ اگر حیض سے پاک ہو جائیں، غسل کر لیں، اس کے بعد مٹیالا یا زرد پانی شروع ہو جائے یا چند دن گزر جائیں پھر مٹیالا یا زرد پانی آئے تو وہ حیض نہ ہوں گے کیونکہ حیض کی ابتدا گاڑھے سیاہ خون سے ہوتی ہے، البتہ اختتام زرد یا مٹیالے پانی سے ہو سکتا ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے اور یہی درست ہے۔
➋ استحاضے والی عورت ایام حیض ختم ہونے پر غسل کر لے، پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ اس کا ایک وضو سے دو نمازیں پڑھنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 368 سے ماخوذ ہے۔