سنن نسائي
كتاب الوصايا— کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
بَابُ : قَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ الْمِيرَاثِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ جَابِرٍ فِيهِ باب: میراث کی تقسیم سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان اور اس سلسلہ میں جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف الفاظ کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَى أَبِي تَمْرٌ ، فَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ ، وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ نِصْفَهُ ، وَتُؤَخِّرَ نِصْفَهُ ؟ فَأَبَى الْيَهُودِيُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْجِدَادَ فَآذِنِّي ؟ فَآذَنْتُهُ ، فَجَاءَ هُوَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، فَجَعَلَ يُجَدُّ وَيُكَالُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى وَفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ ، فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " .
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میرے والد کے ذمہ ایک یہودی کی کھجوریں تھیں ، اور وہ جنگ احد میں قتل کر دیے گئے اور کھجوروں کے دو باغ چھوڑ گئے ، یہودی کی کھجوریں دو باغوں کی کھجوریں ملا کر پوری پڑ رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہودی سے ) فرمایا : ” کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم اس سال اپنے قرض کا آدھا لے لو اور آدھا دیر کر کے ( اگلے سال ) لے لو ؟ “ ، یہودی نے ( ایسا کرنے سے ) انکار کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے فرمایا : ) ” کیا تم پھل توڑتے وقت مجھے خبر کر سکتے ہو ؟ “ ، تو میں نے آپ کو پھل توڑتے وقت خبر کر دی تو آپ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ( کھجور کے ) نیچے سے نکال کر الگ کرنے اور ناپ ناپ کر دینے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی کے پھلوں سے اس کے پورے قرض کی ادائیگی کر دی ، پھر میں ان دونوں حضرات کے پاس ( بطور تواضع ) تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا ، تو ان لوگوں نے کھایا پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق تم لوگوں سے پوچھ تاچھ ہو گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مگر امام بخاری ؒ نے اس کا جواز اسی طرح اس مال کے ہبہ کا جواز جو تقسیم نہ ہوا ہو، باب کی حدیث سے نکالا اس لیے کہ آنحضرت ﷺ نے لوٹ کا مال جو ابھی مسلمانوں کے قبضے میں نہیں آیا تھا، نہ تقسیم ہوا تھا، ہوازن کے لوگوں کو ہبہ کردیا۔
مخالفین یہ کہتے ہیں کہ قبضہ تو ہوگیا تھا کیوں کہ یہ اموال مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے، گو تقسیم نہ ہوئے تھے۔
ثابت بن محمد کا قول مذکوربقول بعض تعلیق نہیں ہے۔
کیوں کہ بعض نسخوں میں یوں ہی حدثنا ثابت یعنی امام بخاری ؒ کہتے ہیں ہم سے ثابت نے بیان کیا۔
دوسری روایت میں جابر ؓ کا واقعہ شاید حضر مجتہد مطلق امام بخاری ؒ نے اس کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا جس میں یہ ہے کہ وہ اونٹ بھی آپ ﷺ نے مجھ کو ہبہ کردیا تو قبضہ سے پہلے ہبہ ثابت ہوا۔
آنحضرت ﷺ نے جابر ؓ کو جو سونا یا چاندی قیمت سے زیادہ دلوایا اسے جابر ؓ نے بطور تبرک ہمیشہ اپنے پاس رکھا اور خرچ نہ کیا۔
یہاں تک کہ یوم الحرۃ آیا۔
یہ لڑائی 63ھ میں ہوئی۔
جب یزیدی فوج نے مدینہ طیبہ پر حملہ کیا۔
حرہ مدینہ کا ایک میدان ہے وہاں یہ لڑائی ہوئی تھی۔
اسی جنگ میں ظالموں نے حضرت جابر ؓ سے اس تبرک نبوی کو چھین لیا۔
آج کل بھی جگہ جگہ بہت سی چیزیں لوگوں نے تبرکات نبوی کے نام سے رکھی ہوئی ہیں۔
کہیں آپ ﷺ کے موئے مبارک بتلائے جاتے ہیں اور کہیں قدم مبارک کے نشان وغیرہ وغیرہ۔
مگر یہ سب بے سند چیزیں ہیں اور ان کے بارے میں خطرہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر یہ افتراءہوں اور ایسے مفتری اپنے آپ کو زندہ دوزخی بنالیں۔
جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میرے اوپر کوئی افتراء باندھا وہ زندہ دوزخی ہے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں اس روایت کو تقریباً پچیس مقامات پر بیان فرمایا ہے اور اس سے متعدد مسائل ثابت کیے ہیں۔
اس روایت میں اگرچہ سفر کا تذکرہ نہیں، تاہم مفصل روایت میں ہے، چنانچہ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں: ایک غزوے سے واپسی کے موقع پر میرا اونٹ تھک گیا، آپ ادھر سے گزرے تو آپ نے دعا فرمائی اور اونٹ کوچھڑی لگادی، پھر کیاتھا، اونٹ تیز چلنے لگا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ!یہ اونٹ ہمیں فروخت کردو۔
‘‘ پہلے تو میں نے انکار کیا، بالآخر آپ ﷺ کے اصرار پر میں نے آپ کو فروخت کردیا اور آپ نے مدینے تک اس پر سواری کی مجھے اجازت دے دی۔
آپ مدینہ پہلے پہنچ گئے، میں صبح کے وقت پہنچا۔
مدینے پہنچتے ہی میں نے وہ اونٹ آپ کی خدمت میں پیش کردیا۔
آپ نے پہلے تو مجھے دورکعت اداکرنے کی ہدایت فرمائی، پھر اونٹ کی قیمت اداکردی اور کچھ زیادہ بھی دیا، نیز جب میں واپس آنے لگا تو اونٹ بھی میرے حوالے کردیا۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2097)
اس روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت جابر ؓ سفرسے واپسی کے بعد جب اونٹ کی قیمت لینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دورکعت پڑھنے کی ہدایت فرمائی، لہذاسفر سے واپسی پر دورکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہوگیا۔
اس حدیث کئ دیگر طرق پر نظر نہ ہونے کی وجہ سے مغلطائی نے امام بخاری ؒ پر اعتراض کیا ہے کہ مذکورہ روایت میں چونکہ سفر سے واپسی کاذکر نہیں۔
اس لیے اس حدیث کی عنوان سے مطابقت نہیں۔
(فتح الباري: 695/1)
2۔
جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ مذکورہ دورکعت "صلاة قدوم" ہے۔
یہ تحیۃ المسجد نہیں جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں بیٹھنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیاہے۔
البتہ صلاۃ قدوم ادا کرنے سے تحیۃ المسجد بھی ادا ہوجائے گی، اس کا الگ اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ اللہ کے نزدیک بڑے پیارے بندے ہیں۔
اچھی ادائیگی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ واجب حق سے کچھ زیادہ ہی دے دیں۔
(1)
رسول اللہ ﷺ کو دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ حضرت جابر ؓ آج کل گھریلو مسائل کا شکار ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی دلداری کا سامان کیا، دوران سفر میں ان کا ایک مریل اونٹ خریدا، مدینے پہنچ کر آپ نے اس کی قیمت ادا کی جو چاندی کی شکل میں تھی اور حضرت بلال ؓ کو کہا کہ انہیں اصل قیمت سے ایک قیراط زیادہ دینا۔
(2)
یہ اضافہ رسول اللہ ﷺ کا تبرک تھا جسے حضرت جابر ؓ بہت حفاظت سے رکھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی اس فیاضی پر امام بخاری ؒ نے عنوان قائم کیا ہے کہ ادائیگی کے وقت خوش دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اور ناپ تول کا کام بھی خود ہی انجام دے رہے تھے۔
اسی سے یہ نکلا کہ ادا کرنے والا ہی خود اپنے ہاتھ سے وزن کرے۔
یہی باب کا مقصد ہے۔
1۔
مذکورہ بالا عنوان کے دو جز ہیں: ٭ ناپ تول فروخت کرنے والے کے ذمے ہے۔
٭دینے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناپ تول کرے یا اس کی مزدوری دے۔
پہلا حصہ پہلی حدیث سے ثابت ہوا۔
اس حدیث سے جہاں ایک عظیم معجزہ ثابت ہوا وہاں یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ ناپ تول کاکام دینے والے کے ذمے ہے،خواہ وہ قرض اتارنے والا ہی کیوں نہ ہو۔
چونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ قرض اتارنے کے لیے کھجوریں دے رہے تھے،اس لیے ناپ تول کردینا بھی انھی کی ذمہ داری تھی۔
بہر حال جنس دینے والا خود اپنے ہاتھ سے وزن کرکے دےگا،خواہ وہ فروخت کرنے والا ہو یا قرض اتارنے والا ہو۔
اگر وہ خود وزن نہیں کرتا تو اس کی مزدوری برداشت کرے۔
(2)
واضح رہے کہ عذق ابن زید اور عجوہ کھجوروں کی اقسام ہیں۔
مدینہ طیبہ میں کئی قسم کی کھجوریں پائی جاتی ہیں۔
شیخ ابو محمد جو جوینی نے لکھا ہے: مدینہ طیبہ میں سیاہ کھجوروں کی اقسام ساٹھ سے زائد ہیں اور سرخ کھجوروں کی اقسام ان سے بھی زیادہ ہیں۔
(فتح الباری: 4/436)
(3)
فراس کی روایت کو امام بخاری رحمہ اللہ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاری،الوصایا،حدیث: 2781)
ہشام سے مراد ہشام بن عروہ ہیں اور اس روایت کو بھی امام بخاری رحمہ اللہ نے موصولاً بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاری،الاستقراض،حدیث: 2396)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3347]
قرض ادا کرتے ہوئے اگر انسان اپنی خوشی سے کچھ مذید دے تو یہ احسان ہے۔
سود کے زمرے میں نہیں آتا۔
اس حدیث کو بنک کے سود کے حامی اپنی دلیل کے طور پرپیش کرتے ہیں۔
حالانکہ بنک اپنے گاہکوں سے احسان پر مبنی ایسا سلوک نہیں کرتے۔
بلکہ اصل زر سے زائد کا معاہدہ طے ہوتا ہے۔
جس کا لینا دینا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔
اس حدیث میں واضح ہے کہ قرض پرکوئی اضافہ طے نہ تھا۔
نہ رسول اللہ ﷺ نے زائد دینے کا معاہدہ کیا تھا۔
نہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مطالبہ تھا۔