مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3663
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سَعْدًا يَعُودُهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَأُوصِي بِالنِّصْفِ ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَأُوصِي بِالثُّلُثِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، الثُّلُثَ ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ فُقَرَاءَ يَتَكَفَّفُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس آئے ، سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصے اللہ کی راہ میں دے دینے کا حکم ( یعنی اجازت ) دے دیجئیے ۔ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، انہوں نے کہا : تو پھر ایک تہائی کی وصیت کر دیتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ہاں ، ایک تہائی ہو سکتا ہے ، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے ، ( آپ نے مزید فرمایا ) اگر تم اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر ( اس دنیا سے ) جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں فقیر بنا کر جاؤ کہ وہ ( دوسروں کے سامنے ) ہاتھ پھیلاتے پھریں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الوصايا / حدیث: 3663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔