حدیث نمبر: 3659
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ سَعْدٍ ، قَالَ : مَرِضَ سَعْدٌ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ : لَا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ` آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے ) وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الوصايا / حدیث: 3659
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3950)، (حم 1/72) (صحیح)»