سنن نسائي
كتاب الاحباس— کتاب: اللہ کی راہ میں مال وقف کرنے کے احکام و مسائل
بَابُ : وَقْفِ الْمَسَاجِدِ باب: مساجد کے لیے وقف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ حِينَ حَصَرُوهُ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَوْمَ الْجَبَلِ حِينَ اهْتَزَّ ، فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : اسْكُنْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدَانِ " ، وَأَنَا مَعَهُ ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ ، يَقُولُ : هَذِهِ يَدُ اللَّهِ ، وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ يَقُولُ : " مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ؟ " فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ يَزِيدُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ " ، فَاشْتَرَيْتُهُ مِنْ مَالِي ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا شَهِدَ رُومَةَ تُبَاعُ ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي ، فَأَبَحْتُهَا لِابْنِ السَّبِيلِ ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ " ،
´ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، ( وہ کہتے ہیں : ) کہ` جب لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا : ” ٹھہرا رہ ( سکون سے رہ ) تیرے اوپر ایک نبی ، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں “ ، ( کوئی اور نہیں ) اس وقت میں آپ کے ساتھ تھا ( یہ سن کر ) بہت سے لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی ، انہوں نے ( پھر ) کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ) فرمایا تھا : ” یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا “ ۱؎ ، تو بہت سے لوگوں نے اس کی تصدیق کی ۔ پھر انہوں نے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جس نے جیش عسرہ ( تنگ حالی سے دوچار لشکر ) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ” کون ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ایسا خرچ جس کی ( بارگاہ الٰہی میں ) قبولیت یقینی ہے “ ۔ اس وقت میں نے اپنے ذاتی مال کو خرچ کر کے آدھے لشکر کی ضروریات کو پورا کر کے میدان جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا تو بےشمار لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی ۔ انہوں نے ( پھر ) کہا : میں اس شخص سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” کون ہے جو جنت میں ایک گھر کے عوض اس مسجد ( نبوی ) میں توسیع کرتا ہے “ ۔ میں نے ( یہ سن کر مسجد سے ملی ہوئی زمین ) اپنے پیسوں سے خرید کر مسجد کو کشادہ کر دیا ، تو لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی ۔ انہوں نے پھر کہا : میں اللہ کو گواہ بنا کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جو بئررومہ کی فروختگی کے وقت موجود تھا میں نے اسے اپنا مال دے کر خریدا تھا اور میں نے اسے مسافروں کے لیے عام کر دیا تھا ( جو بھی گزرنے والا اس کا پانی پینا چاہے پیے ) لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ جب لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا: ” ٹھہرا رہ (سکون سے رہ) تیرے اوپر ایک نبی، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں “، (کوئی اور ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3639]
(2) پہاڑ پر آپ کا پاؤں مارنا اور اس سے خطاب فرمانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی اعجازی شان کا اظہار ہے جس کا اصل مقصد ان حضرات کو ان کی منقبت وفضیلت سے آگاہ فرمانا تھا‘ نیز دنیا کے سامنی اعلان مقصود تھا۔ واللہ أعلم۔
(3) ”بیعت الرضوان“ وہ بیعت ہے جس کے نتیجے میں بیعت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہوئی اور باقاعدہ قرآن مجید میں اسکا اعلان ہوا۔ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے دورن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ پھیلنے پر پیش آیا۔
(4) ”یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا“ چونکہ حضرت عثمان موقع پر موجود نہ تھے‘ نیز آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ عثمان زندہ ہیں‘ لہٰذا آپ نے ایک ہاتھ کو اپنے دوسرے کو اللہ تعالیٰ کا کیونکہ یہ بیعت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہورہی تھی۔ قرآن مجید میں بھی ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ﴾ (الفتح 48: 10) اس میں حضرت عثمان اور خود رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان واضح طور پر نبمایا ہے۔
(5) ”نصف لشکر“ گویا اس لشکر کی تیاری میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا جس کی تفصیل مذکو رنہیں۔
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی الله عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ” حرا ٹھہرے رہو! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں؟ “، ان لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیش عسرہ (غزوہ تبوک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3699]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں مذکور تینوں باتیں اسلام کی عظیم ترین خدمت ہیں جن کو عثمان رضی اللہ عنہ نے انجام دیئے، یہ آپ ؓ کی اسلام میں عظیم مقام ومرتبے کی بات ہے۔