سنن نسائي
كتاب الخيل— کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْجَنَبِ باب: جنب (پہلو میں ہونے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3622
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَابَقَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَسَبَقَهُ ، فَكَأَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ ذَلِكَ ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْءٌ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اونٹنی کی ) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا ، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز ( رنج و ملال ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´جنب (پہلو میں ہونے) کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اونٹنی کی) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز (رنج و ملال) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے۔" [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3622]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اونٹنی کی) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز (رنج و ملال) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے۔" [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3622]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث کا جنب سے کوئی تعلق نہیں‘ البتہ اصل سے تعلق ہے کہ اونٹ دوڑ کروائی جاسکتی ہے۔ اس حدیث کا تفصیل حدیث: 3618 میں گزرچکی ہے۔
(2) "اونچا کرے گی" یعنی اپنے آپ کو اونچا سمجھے گی۔ ظاہر ہے جانوروں میں بھی یہ احساس تو موجود ہے۔ تبھی وہ مقابلے میں آگے بڑھنے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اونچا بھی کرتے ہیں‘ لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔
(2) "اونچا کرے گی" یعنی اپنے آپ کو اونچا سمجھے گی۔ ظاہر ہے جانوروں میں بھی یہ احساس تو موجود ہے۔ تبھی وہ مقابلے میں آگے بڑھنے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اونچا بھی کرتے ہیں‘ لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3622 سے ماخوذ ہے۔