حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قالت : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ ، فَقَالَ : " تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ ، وَتُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا ، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : میں مستحاضہ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ ( نماز نہ پڑھو ) پھر غسل کرو ، اور ظہر کو مؤخر کرو ، اور عصر میں جلدی کرو ، اور غسل کرو ، اور نماز پڑھو ، اور مغرب کو مؤخر کرو ، اور عشاء کو جلدی کرو ، اور غسل کر کے ( دونوں کو ایک ساتھ ) پڑھو ، اور فجر کے لیے ( الگ ایک ) غسل کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الحيض والاستحاضة / حدیث: 361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 15881) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مستحاضہ کے ایک غسل سے دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔`
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں مستحاضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ (نماز نہ پڑھو) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے (دونوں کو ایک ساتھ) پڑھو، اور فجر کے لیے (الگ ایک) غسل کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 361]
361۔ اردو حاشیہ: دیکھیے، حدیث: 214 اور اس کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 361 سے ماخوذ ہے۔