سنن نسائي
كتاب الخيل— کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : دَعْوَةِ الْخَيْلِ باب: گھوڑے کی دعا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ عِنْدَ كُلِّ سَحَرٍ بِدَعْوَتَيْنِ : اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ ، وَجَعَلْتَنِي لَهُ ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ ، وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ " .
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر عربی گھوڑے کو ( یہاں مخاطب عرب تھے ) ( اس لیے آپ نے عربی گھوڑا کہا ، لیکن مقصود راہ جہاد میں کام آنے والے گھوڑے ہیں ، اس لیے ہر اس عمدہ گھوڑے کو خواہ کسی بھی ملک کا ہو جو جہاد کی نیت سے رکھا جائے اس دعا کی اجازت ہونی چاہیئے ) ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ( وہ کہتا ہے ) اے اللہ ! اولاد آدم میں سے جس کی بھی سپردگی میں مجھے دے اور جس کو بھی مجھے عطا کرے مجھے اس کے گھر والوں اور اس کے مالوں میں سب سے زیادہ محبوب و عزیز بنا دے یا مجھے اس کے محبوب گھر والوں اور پسندیدہ مالوں میں سے کر دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر عربی گھوڑے کو (یہاں مخاطب عرب تھے) (اس لیے آپ نے عربی گھوڑا کہا، لیکن مقصود راہ جہاد میں کام آنے والے گھوڑے ہیں، اس لیے ہر اس عمدہ گھوڑے کو خواہ کسی بھی ملک کا ہو جو جہاد کی نیت سے رکھا جائے اس دعا کی اجازت ہونی چاہیئے) ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے (وہ کہتا ہے) اے اللہ! اولاد آدم میں سے جس کی بھی سپردگی میں مجھے دے اور جس کو بھی مجھے عطا کرے مجھے اس کے گھر والوں اور اس کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3609]
(2) ”رات کے آخری حصے میں“ کیونکہ یہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔
(3) ”عربی گھوڑے“ یہ الفاظ غالباً اس زمانے کے اعتبار سے ہیں ورنہ عجمی گھوڑا عجمی زبان میں دعا کرتا ہو گا۔ واللہ أعلم۔