سنن نسائي
كتاب الخيل— کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : بَرَكَةِ الْخَيْلِ باب: گھوڑے کی برکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3601
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ( رکھ دی گئی ) ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الخيل / حدیث: 3601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2851 | صحيح البخاري: 3645 | صحيح مسلم: 1874
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´گھوڑے کی برکت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت (رکھ دی گئی) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3601]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت (رکھ دی گئی) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3601]
اردو حاشہ: ان گھوڑوں سے مراد جہاں میں استعمال ہونے والے گھوڑے ہیں۔ برکت کی تفصیل کے لیے دیکھے‘ حدیث: 3591۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3601 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2851 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2851. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیرو برکت ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2851]
حدیث حاشیہ:
الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جوجہاد کے لیے رکھے گئے ہوں۔
اس قسم کے گھوڑوں میں واقعی بڑی خیروبرکت ہے۔
دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ان گھوڑوں کا اہتمام کرنے والے کو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا اورقیامت کےدن تو اس کا گوبر اور پیشاب تک نامہ اعمال میں رکھ دے گا۔
اور ان کا وزن کرکے نیکیاں دی جائیں گی۔
ویسے بھی گھوڑا سواری کے جانوروں میں ایک نمایاں حیثیت کا حامل ہے اور وفا شعاری کے اعتبارسے انسانوں کے لیے ایک محبوب جانور ہے،خاص طور پر میدان جنگ میں گھوڑے کی سواری اہمیت رکھتی ہے۔
آج کل جدید دور میں جبکہ بہترین سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں اس کے باجود گھوڑے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
دنیا کی کوئی ایسی حکومت نہیں جس میں گھڑ سوار فوج کا دستہ نہ ہو۔
الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جوجہاد کے لیے رکھے گئے ہوں۔
اس قسم کے گھوڑوں میں واقعی بڑی خیروبرکت ہے۔
دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ان گھوڑوں کا اہتمام کرنے والے کو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا اورقیامت کےدن تو اس کا گوبر اور پیشاب تک نامہ اعمال میں رکھ دے گا۔
اور ان کا وزن کرکے نیکیاں دی جائیں گی۔
ویسے بھی گھوڑا سواری کے جانوروں میں ایک نمایاں حیثیت کا حامل ہے اور وفا شعاری کے اعتبارسے انسانوں کے لیے ایک محبوب جانور ہے،خاص طور پر میدان جنگ میں گھوڑے کی سواری اہمیت رکھتی ہے۔
آج کل جدید دور میں جبکہ بہترین سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں اس کے باجود گھوڑے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
دنیا کی کوئی ایسی حکومت نہیں جس میں گھڑ سوار فوج کا دستہ نہ ہو۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2851 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3645 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3645. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’خیروبرکت توقیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانی سے باندھ دی گئی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3645]
حدیث حاشیہ: مراد مال غنیمت ہے جو گھوڑے سوار مجاہدین کو فتح کے نتیجہ میں حاصل ہوا کرتا تھا۔
آج بھی گھوڑا فوجی ضروریات کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
آج بھی گھوڑا فوجی ضروریات کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3645 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3645 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3645. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’خیروبرکت توقیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانی سے باندھ دی گئی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3645]
حدیث حاشیہ:
1۔
نواصی الخیل سے وہ بال مراد ہیں جو گھوڑے کی پیشانی پر لٹکے ہوتے ہیں۔
اس سے مقصود صرف بال نہیں بلکہ یہ پوری ذات سے کنایہ ہے،یعنی گھوڑا سارے کا سارا خیروبرکت کا حامل ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کی مذکورہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
آج بھی فوج میں گھوڑے کی اہمیت مسلم ہے۔
فوجی ضروریات کے لیے اسے رکھا جاتا ہے بلکہ فوج میں اس کے متعلق مستقل ایک شعبہ قائم ہے۔
اس میں اعلیٰ قسم کے گھوڑے درآمد کیے جاتے ہیں اور فوجیوں کو اس پر سواری کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
قیامت تک گھوڑوں کی یہ ضرورت باقی رہے گی۔
ان کی خیروبرکت یہی ہے کہ ان کی ضرورت باقی رہے گی،خواہ دور کتنا ہی ماڈرن ہوجائے۔
1۔
نواصی الخیل سے وہ بال مراد ہیں جو گھوڑے کی پیشانی پر لٹکے ہوتے ہیں۔
اس سے مقصود صرف بال نہیں بلکہ یہ پوری ذات سے کنایہ ہے،یعنی گھوڑا سارے کا سارا خیروبرکت کا حامل ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کی مذکورہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
آج بھی فوج میں گھوڑے کی اہمیت مسلم ہے۔
فوجی ضروریات کے لیے اسے رکھا جاتا ہے بلکہ فوج میں اس کے متعلق مستقل ایک شعبہ قائم ہے۔
اس میں اعلیٰ قسم کے گھوڑے درآمد کیے جاتے ہیں اور فوجیوں کو اس پر سواری کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
قیامت تک گھوڑوں کی یہ ضرورت باقی رہے گی۔
ان کی خیروبرکت یہی ہے کہ ان کی ضرورت باقی رہے گی،خواہ دور کتنا ہی ماڈرن ہوجائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3645 سے ماخوذ ہے۔