سنن نسائي
كتاب الخيل— کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ شِيَةِ الْخَيْلِ باب: کس طرح کا گھوڑا اچھا اور پسندیدہ ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْبَزَّازُ هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ ، وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَكْفَالِهَا ، وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ ، وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ " .
´صحابی رسول ابو وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( اپنے بچوں کے ) نام انبیاء کے ناموں پر رکھو ، اور اللہ کے نزدیک سب ناموں میں زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہے ۱؎ ، گھوڑے باندھو ، ان کی پیشانی سہلاؤ اور ان کے پٹھوں کی مالش کرو ، ان کے گلے میں قلادے لٹکاؤ ، لیکن تانت کے نہیں ، کمیتی ( سرخ سیاہ رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں یا اشقر ( سرخ زرد رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانیاں اور ٹانگیں سفید ہوں یا «ادھم» ( کالے رنگ کے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگوں پر سفیدی ہو “ ( یہ گھوڑے اچھے اور خیر و برکت والے ہوتے ہیں ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
صحابی رسول ابو وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم (اپنے بچوں کے) نام انبیاء کے ناموں پر رکھو، اور اللہ کے نزدیک سب ناموں میں زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہے ۱؎، گھوڑے باندھو، ان کی پیشانی سہلاؤ اور ان کے پٹھوں کی مالش کرو، ان کے گلے میں قلادے لٹکاؤ، لیکن تانت کے نہیں، کمیتی (سرخ سیاہ رنگ والے) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں یا اشقر (سرخ زرد رنگ والے) گھوڑے رکھو جن کی پیشا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3595]
(2) ”ہاتھ پھیرا کرو“ دوسرے معنیٰ یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ انہیں صاف ستھرا رکھا کرو‘ ان کی خوب دیکھ بھال کیا کرو۔
(3) ”تندی نہ ڈالو“ کیونکہ یہ سخت اور تیز ہوتی ہے‘ اس سے گلا کٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
(4) ”قرمزی“ سیاہ وسرخ دونوں رنگوں کے امتزاج سے یہ رنگ بنتا ہے۔ اس قسم کے گھوڑوں کا بہتر ثابت ہونا تجربے کی بنیاد پر تھا نہ کہ وحی سے۔ کسی اور علاقے اور زمانے میں اس کی خلاف بھی ممکن ہے۔ ویسے ان رنگوں کے گھوڑے خوب صورت معلوم ہوتے ہیں۔ ماتھے پرپھول کی طرح سفیدی اور چاروں پاؤں گھٹنوں سے نیچے سفید‘ کیا ہی بھلے لگتے ہیں!
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام ” عبداللہ “ اور ” عبدالرحمٰن “ ہیں، اور سب سے سچے نام ” حارث “ و ” ہمام “ ہیں ۱؎، اور سب سے نا پسندیدہ و قبیح نام ” حرب “ و ” مرہ “ ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4950]
1) عبداللہ اور عبد الرحمن جیسے ناموں میں اللہ عزوجل کی طرف بندگی کی نسبت اور اس کا اظہار ہے تو سعادت ہے، اس بندے کے لیے جسے اُٹھتے بیٹھتے موقع بے موقع اس عالی نسب سے پکارا جائے۔
اس کے بالمقابل انسانوں میں کون ہوگا، جسے اسبابِ رزق کی فکر نہ ہو یا کسی طرح کے رنج و الم سے محفوظ ہو؟ اس لیے حارث اور حمام ایسے نام ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہیں۔
نیز بقول بعض نام کا اپنے مسمی پر کچھ معنوی اثر بھی ہوتا ہے، اس لیئے اچھے نام رکھنے چاہیئں۔
حرب (لڑاکا) اور مرہ (کڑوہ) بہت برے نام ہیں، لہذا ان سے بچنا چاہیئے۔
2) مذکورہ روایت کی تحقیق کی بابت ہمارے فاضل محقق لکھتے ہیں کہ یہ روایت سنداَ ضعیف ہے، تاہم اس کے شواہد ہیں۔
لیکن اس شواہد کی تفصیل ذکر نہیں کی وہ شواہد کس درجے کے ہیں۔
۔
۔
۔
مذکورہ بالا روایت کے الفاظ (أحب الأسماء عبدالله و الرحمن) صحیح مسلم (حدیث 2132) اور سنن ابو داؤد (حدیث 4949) میں صحیح سند سے مروی ہیں جنہیں خود اُنھوں نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔
نیز روایت کے باقی الفاظ: (تسمو بأسماء الأنبياء) کے الفاظ کے سوا صحیح ہے، جیسا کہ شیخ البانی ؒ نے ذکر کیا ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھئے: (الصحیحة، حديث: 904)