سنن نسائي
كتاب الخيل— کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : ب الخيل مَعُقْوْدٌ فِيْ نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ باب: گھوڑے کی پیشانی میں خیر اور بھلائی کے ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صَبِيحٍ الْمُرِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَذَالَ النَّاسُ الْخَيْلَ ، وَوَضَعُوا السِّلَاحَ ، وَقَالُوا : لَا جِهَادَ قَدْ وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ ، وَقَالَ : " كَذَبُوا الْآنَ الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ ، وَلَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ، وَيُزِيغُ اللَّهُ لَهُمْ قُلُوبَ أَقْوَامٍ ، وَيَرْزُقُهُمْ مِنْهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، وَحَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ ، وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَقْبُوضٌ غَيْرَ مُلَبَّثٍ ، وَأَنْتُمْ تَتَّبِعُونِي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، وَعُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ " .
´سلمہ بن نفیل کندی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اس وقت ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! لوگوں نے گھوڑوں کی اہمیت اور قدر و قیمت ہی گھٹا دی ، ہتھیار اتار کر رکھ دیے اور کہتے ہیں : اب کوئی جہاد نہیں رہا ، لڑائی موقوف ہو چکی ہے ۔ یہ سنتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور ( پورے طور پر متوجہ ہو کر ) فرمایا : ” غلط اور جھوٹ کہتے ہیں ، ( صحیح معنوں میں ) لڑائی کا وقت تو اب آیا ہے ۱؎ ، میری امت میں سے تو ایک امت ( ایک جماعت ) حق کی خاطر ہمیشہ برسرپیکار رہے گی اور اللہ تعالیٰ کچھ قوموں کے دلوں کو ان کی خاطر کجی میں مبتلا رکھے گا ۲؎ اور انہیں ( اہل حق کو ) ان ہی ( گمراہ لوگوں ) کے ذریعہ روزی ملے گی ۳؎ ، یہ سلسلہ قیامت ہونے تک چلتا رہے گا ، جب تک اللہ کا وعدہ ( متقیوں کے لیے جنت اور مشرکوں و کافروں کے لیے جہنم ) پورا نہ ہو جائے گا ، قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی ( خیر ) بندھی ہوئی ہے ۴؎ اور مجھے بذریعہ وحی یہ بات بتا دی گئی ہے کہ جلد ہی میرا انتقال ہو جائے گا اور تم لوگ مختلف گروہوں میں بٹ کر میری اتباع ( کا دعویٰ ) کرو گے اور حال یہ ہو گا کہ سب ( اپنے متعلق حق پر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ) ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہوں گے اور مسلمانوں کے گھر کا آنگن ( جہاں وہ پڑاؤ کر سکیں ، ٹھہر سکیں ، کشادگی سے رہ سکیں ) شام ہو گا “ ۵؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلمہ بن نفیل کندی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! لوگوں نے گھوڑوں کی اہمیت اور قدر و قیمت ہی گھٹا دی، ہتھیار اتار کر رکھ دیے اور کہتے ہیں: اب کوئی جہاد نہیں رہا، لڑائی موقوف ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور (پورے طور پر متوجہ ہو کر) فرمایا: ” غلط اور جھوٹ کہتے ہیں، (صحیح معنوں میں) لڑائی کا وقت تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3591]
(2) 'جہاد تو اب شروع ہوا ہے“ اب تک تو اپنے علاقے میں جہاد تھا۔ اجنبی علاقوں میں جہاد تو اب شروع ہوگا۔ یا معنیٰ یہ ہیں کہ ابھی تو جہاد فرض ہوئے تھوڑی دیر ہوئی ہے اتنی جلدی کیسے ختم ہوسکتا ہے؟
(3) ”خیر“ عزت‘ دبدبہ‘ رعب‘ ثواب اور غنیمت وغیرہ۔
(4) ”شام ہوگا“ بعض روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریب قیامت شام کا علاقہ مومنین کے لیے فتح کا مقام ہوگا۔ مکہ مدینہ منورہ میں تو لڑائی ہوگی ہی نہیں۔ اس حدیث میں گویا اشارہ ہے کہ اہل اسلام کے لیے فتنوں کے دور میں شام امن اور سلامتی کی جگہ ہوگی۔
(5) اس حدیث میں جہاد کے لیے رکھے گئے گھوڑوں کی دوسرے جانوروں پر فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان کے علاوہ کسی جانور کی فضیلت ثابت نہیں‘ نیز ایسے گھوڑوں کے ذریعے سے حاصل کیا ہوا مال بھی بہترین مالوں میں سے ہے۔
(6) اس میں اسلام‘ جہاد اور اہل اسلام کے قیامت تک باقی رہنے کی خوشخبری ہے اور مسلمانوں کی آپس میں لڑائی کے بارے میں رسول اللہﷺ کی پیشن گوئی کا بھی ذکر ہے۔