حدیث نمبر: 3590
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ . ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : نُبِّئْتُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عَمْرٌو : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ، ثُمَّ رَاجَعَهَا " , وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اور عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع فرمایا تھا ۔ واللہ اعلم ، ( اللہ بہتر جانتا ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطلاق 38 (2283)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 1 (2016)، (تحفة الأشراف: 1093)، سنن الدارمی/الطلاق 2 (2310) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2283 | سنن ابن ماجه: 2016

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´(طلاق سے) رجعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع فرمایا تھا۔ واللہ اعلم، (اللہ بہتر جانتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3590]
اردو حاشہ: (1) اس واقعے کی تفصیل کسی حدیث میں ذکر نہیں۔ اغلب گمان یہ ہے کہ ارادۂ طلاق مراد ہے ورنہ طلاق دی ہوتی تو حرم نبوی کے بارے میں ایسی خبر اتنی گمنام نہ رہتی بلکہ مدینہ میں دھوم مچ جاتی۔ آپ نے ایک مہینے کے لیے الگ رہنے کی قسم کھائی تھی تو اسی صبح مدینہ منورہ اور مسجد نبوی کے درودیوار لوگوں کی چیخوں سے گونج اٹھے تھے۔ یہ سانحہ تو مخفی رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ کسی حدیث کے معنیٰ متعین کرنے کے لیے واقعاتی شہادت کا لحاظ بھی ضروری ہے۔
(2) باب کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کے بعد رجوع مشروع ہے۔ جس طرح خاوند کے بارے میں خود مختار ہے‘ اسی طرح رجوع کے بارے میں بھی خود مختار ہے۔ رجوع کے لیے عورت کی رضا مندی ضروری نہیں‘ البتہ تیسری طلاق‘ لعان اور خلع کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جس عورت کو جماع سے پہلے طلاق ہوجائے اس سے بھی رجوع ممکن نہیں
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3590 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2283 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´رجعت (طلاق واپس لے لینے) کا بیان۔`
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کر لی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2283]
فوائد ومسائل:
1: پہلی اور دوسری طلاق کے بعد عدت کے دوران میں رجوع کیا جا سکتا ہے اور چاہیے کہ دو گواہ ضرور بنائے جائیں
2: حضرت حفصہ رضی اللہ سے رجوع کے بارے میں جناب قیس بن زید (تابعی صغیر) کی مرسل روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا کہ حفصہ سے رجوع فرما لیں۔
یہ بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی خاتون ہیں اور جنت میں آپ کی بیوی ہیں. (ارواء الغلیل‘ حدیث:2077)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2283 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2016 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ہمیں سوید بن سعید نے بیان کیا۔`
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2016]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  امام العصر الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل میں، مذکورہ بالاحدیث کے ضمن میں ایک روایت بیان کی ہے جس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ اللہ تعالی نے نبئ اکرم ﷺ کو حکم دیا تھا کہ رجوع فرما لیں اور کہا تھا کہ وہ روزہ رکھنے والی اور عبادت کرنے والی خاتون ہیں اور جنت میں آپ کی بیوی ہیں۔
دیکھئے: (إلارواء: 7؍158، 159، تحت حدیث: 2077)
اس میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ہے کہ اللہ نے اپنے نبی کو انہیں زوجیت میں رکھنے کا حکم دیا۔

(2)
طلاق دینا جائز ہے لیکن بلاوجہ طلاق دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

(3)
  طلاق کے بعد رجوع کرلینے سے بیوی کو وہ تمام حقوق حاصل ہوجاتےہیں جو طلاق سے پہلے حاصل تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2016 سے ماخوذ ہے۔