سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : نَسْخِ مَتَاعِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا بِمَا فُرِضَ لَهَا مِنَ الْمِيرَاثِ باب: میراث کی فرضیت کے بعد شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو ملنے والے خرچ کے منسوخ ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السِّجْزِيُّ خَيَّاطُ السُّنَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي قَوْلِهِ : وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240 ، نُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ ، مِمَّا فُرِضَ لَهَا مِنَ الرُّبُعِ ، وَالثُّمُنِ ، وَنَسَخَ أَجَلَ الْحَوْلِ ، أَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما` اللہ تعالیٰ کے اس قول «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ” اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں ( یعنی جس وقت مرنے لگیں ) تو وہ اپنی بیبیوں کے لیے ایک سال تک ان کو نہ نکالنے اور خرچ دینے کی وصیت کر جائیں “ ۔ ( البقرہ : ۲۴۰ ) کے متعلق فرماتے ہیں : یہ آیت میراث کی آیت سے منسوخ ہو گئی ہے جس میں عورت کا چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اور ایک سال تک عدت میں رہنے کا حکم چار ماہ دس دن کے حکم سے منسوخ ہو گیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ” اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں (یعنی جس وقت مرنے لگیں) تو وہ اپنی بیبیوں کے لیے ایک سال تک ان کو نہ نکالنے اور خرچ دینے کی وصیت کر جائیں۔“ (البقرہ: ۲۴۰) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت میراث کی آیت سے منسوخ ہو گئی ہے جس میں عورت کا چوتھائی اور آٹ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3573]