مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3557
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر سے فرماتے ہوئے سنا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے شوہر کے ، اس ( کے مرنے ) پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3557
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1280 | صحيح البخاري: 5345 | صحيح مسلم: 1486 | سنن ترمذي: 1195 | سنن نسائي: 3530 | سنن نسائي: 3563

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´شوہر کی وفات پر کتابیہ سے سوگ کے ساقط ہو جانے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر سے فرماتے ہوئے سنا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے شوہر کے، اس (کے مرنے) پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3557]
اردو حاشہ:: باب پر استدلال ظاہر الفاظ سے ہے کیونکہ اسلامی شریعت مسلمانوں کے لیے ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا موقف بھی یہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور کا موقف یہ ہے کہ اس پر بھی سوگ واجب ہے لیکن اس حدیث سے پہلے موقف کی تائید ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3557 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5345 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5345. سیدنا زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ جب انہیں اپنے والد گرامی (سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ) کے فوت ہونے کی اطلاع ملی تو (تین دن کے بعد) انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی۔ پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نبی ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو عورت اللہ پر ایمان اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہو وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5345]
حدیث حاشیہ: ثابت ہوا کہ شوہر کے سوا کسی اور کے لیے تین دن سے زیادہ ماتم کرنے والی عورتیں ایمان سے محروم ہیں۔
پس ان کو اللہ سے ڈر کر اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5345 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5345 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5345. سیدنا زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ جب انہیں اپنے والد گرامی (سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ) کے فوت ہونے کی اطلاع ملی تو (تین دن کے بعد) انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی۔ پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نبی ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو عورت اللہ پر ایمان اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہو وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5345]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے۔
ایسی عورتیں ایمان سے محروم ہیں جو اس حکم کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
(2)
عنوان میں عدت کا ذکر تھا اور اس حدیث میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت حدیث میں بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عدت کے ایام پورے کرے، اس کی خلاف ورزی کر کے خود کو ایمان سے محروم نہ کرے۔
(عمدة القاري: 357/14)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5345 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1280 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1280. حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: جب علاقہ شام سے حضر ت ابو سفیان ؓ کے فوت ہونے کی اطلاع آئی تو حضرت ام حبیبہ ؓ نے تیسرے روز زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے ہاتھوں اور رخساروں پر لگایا اور فرمایا: اگرچہ مجھے اس کی قطعاً ضرورت نہ تھی، لیکن میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سناہے: ’’جو عورت اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، لیکن اسے اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا چاہیے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1280]
حدیث حاشیہ: جب کہ میں خود رانڈ بیوہ اوربڑھیا ہوں، میں نے اس حدیث پر عمل کرنے کے خیال سے خوشبو کا استعمال کرلیا۔
قال بن حجر: هو وهم لأنه مات بالمدینة بلا خلاف وإنما الذي مات بالشام أخوها یزید بن أبي سفیان والحدیث في مسندي ابن أبي شیبة والدارمي بلفظ جاء نعي لأخي أم حبیبة أوحمیم لها ولأحمد نحوہ فقوی کونه أخاها۔
یعنی علامہ ابن حجرؒ نے کہا کہ یہ وہم ہے۔
اس لیے کہ ابوسفیان ؓ کا انتقال بلا اختلاف مدینہ میں ہوا ہے۔
شام میں انتقال کرنے والے ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان تھے۔
مسند ابن ابی شیبہ اور دارمی اورمسند احمد وغیرہ میں یہ وضاحت موجود ہے۔
اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ صرف بیوی اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرسکتی ہے اور کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے۔
بیوی کے خاوند پر اتنا سوگ کرنے کی صورت میں بھی بہت سے اسلامی مصالح پیش نظر ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1280 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3563 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سوگ منانے والی مسلمان عورت عدت کے ایام میں زیب و زینت ترک کر دے گی، یہود یہ اور نصرانیہ عورت کیا کرے؟ اس سے کوئی غرض نہیں۔`
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ (آنے والی) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس (تعزیت میں) گئی، (میں نے دیکھا کہ) انہوں نے خوشبو منگوائی، (پہلے) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3563]
اردو حاشہ: (1) مسئلہ باب کے لیے دیکھیے حدیث: 3531، 3532۔
(2) کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ میرا خاوند تو فوت ہو چکا ہے‘نیز تین دن سوگ کے بعد خوشبو لگانا ضروری بھی نہیں البتہ سوگ کا شبہ ختم کرنے کے لیے خوشبو وغیرہ لگا لینا مستحب ہے(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3531‘3532۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3563 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔