حدیث نمبر: 3554
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب : ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا ، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ ، فَقَالَ : قَضَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ مَا قَضَيْتَ " ، فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ان سے ایک ایسے آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کی مہر متعین نہ کی اور دخول سے پہلے مر گیا تو انہوں نے کہا : اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر دلائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ ، اسے عدت گزارنی ہو گی اور اس عورت کو شوہر کے مال سے میراث ملے گی ، یہ سن کر معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا : ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے ، یہ سن کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3554
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3356 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´دخول سے پہلے مر جانے والے شوہر کی بیوی کی عدت کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کی مہر متعین نہ کی اور دخول سے پہلے مر گیا تو انہوں نے کہا: اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر دلائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ، اسے عدت گزارنی ہو گی اور اس عورت کو شوہر کے مال سے میراث ملے گی، یہ سن کر معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3554]
اردو حاشہ: باوجود جماع نہ ہونے کے وہ مکمل بیوی شمار ہوگی کیونکہ نکاح ہوچکا ہے۔ مہر کا مقرر نہ ہونا نکاح کے منافی نہیں‘ البتہ مہر کی نفی نہیں ہونی چاہیے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے‘ حدیث:3356)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3554 سے ماخوذ ہے۔