حدیث نمبر: 3553
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ , قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوقٌ , وَعَبِيدَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ سُورَةَ النِّسَاءِ الْقُصْرَى نَزَلَتْ بَعْدَ الْبَقَرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نسائی ( یعنی طلاق ) کی چھوٹی سورۃ البقرہ کی ( بڑی ) سورۃ کے بعد نازل ہوئی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3553
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9184) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نسائی (یعنی طلاق) کی چھوٹی سورۃ البقرہ کی (بڑی) سورۃ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3553]
اردو حاشہ: (1) اس سورت (سورۂ طلاق) میں مذکور حکم کے ساتھ سورۂ بقرہ کے حکم کی تخصیص کی جائے گی۔ نتیجتاً حاملہ عورت‘ جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو‘ کی عدت وضع حمل‘ یعنی بچے کی پیدائش ہے۔
(2) اس حدیث کا اس قدر تکرارسند کا اختلاف ظاہر کرنے کے لیے ہے‘ نیز اس سے واقعہ کی تمام جزئیات سامنے آجاتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3553 سے ماخوذ ہے۔