حدیث نمبر: 3552
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينِ بْنِ نُمَيْلَةَ يَمَامِيٌّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وأَخْبَرَنِي مَيْمُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شَبْرَمَةَ الْكُوفِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ ، مَا أُنْزِلَتْ : وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4 ، إِلَّا بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ، إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ " ، وَاللَّفْظُ لِمَيْمُونٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ` ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا : جو کوئی مجھ سے مباہلہ کرنا چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں ( کہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے ) کیونکہ وضع حمل کی مدت سے متعلق آیت «متوفی عنہا زوجہا» والی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے ، اس لیے جس کا شوہر مر گیا ہو جب وہ بچہ جن دے گی حلال ہو جائے گی ۔ اس روایت کے الفاظ میمون کے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3552
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، إبراهيم النخعي عنعن. وانظر سنن أبى داود (2307 بتحقيقي). والحديث السابق (الأصل: 3551) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9442)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 47 (2307)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2030) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: جو کوئی مجھ سے مباہلہ کرنا چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں (کہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے) کیونکہ وضع حمل کی مدت سے متعلق آیت «متوفی عنہا زوجہا» والی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے جس کا شوہر مر گیا ہو جب وہ بچہ جن دے گی حلال ہو جائے گی۔ اس روایت کے الفاظ میمون کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3552]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی رحمہ اللہ کے اس حدیث میں دواستاد ہیں: محمد بن مسکین اور میمون بن عباس۔ یہ الفاظ میمون کے ہیں۔
(2) "مباہلہ" یعنی جو جھوٹا‘ اس پر لعنت۔ گویا ان کو کامل یقین تھا کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3552 سے ماخوذ ہے۔