حدیث نمبر: 3542
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، تَذَاكَرُوا عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ، تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي ، فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلیمان بن یسار سے روایت ہے ، ابوہریرہ ، ابن عباس ( رضی الله عنہم ) اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے` اس عورت کے بارے میں جس کا شوہر مر گیا ہو اور شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنا ہو آپس میں بات چیت کی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : جو عدت بعد میں پوری ہو اس کا وہ لحاظ و شمار کرے گی ، ابوسلمہ نے کہا : نہیں وہ وضع حمل کے ساتھ ہی ( دوسرے کے لیے ) حلال ہو جائے گی ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بھی اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ان کا ہم خیال ہوں ) ، پھر ان لوگوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا تو انہوں نے کہا : سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تھوڑے ہی دنوں بعد بچہ جنا پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3542
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3541 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1485 | سنن ترمذي: 1194 | سنن نسائي: 3539 | سنن نسائي: 3540 | سنن نسائي: 3541 | سنن نسائي: 3543 | سنن نسائي: 3544 | سنن نسائي: 3545

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3540 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت (کی عدت) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ (انتقال کے وقت) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ۱؎، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ (یہ اختلاف سن کر) ابوسلمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3540]
اردو حاشہ: کسی فتوے اور فیصلے میں ذاتی میلان کی بنا پر جانبداری سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اگر جانبداری کا خدشہ ہو تو قاضی اس کیس کی سماعت نہ کرے بلکہ کوئی دوسرا جج جو غیر جانبداری سے فیصلہ کرسکتا ہو‘ اس کیس کی سماعت کرے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3540 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3541 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی " جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3541]
اردو حاشہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ سوگ کی مدت تو ہر حال میں ضروری ہے اور وضع حمل بھی۔ چونکہ رسول اللہﷺ کا فرمان اس سے مختلف تھا‘ اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع فرما لیا تھا۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3541 سے ماخوذ ہے۔