حدیث نمبر: 3539
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : اخْتَلَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : تُزَوَّجُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَبْعَدَ الْأَجَلَيْنِ ، فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : " تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ ، فَوَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةَ عَشَرَ نِصْفِ شَهْرٍ ، قَالَتْ : فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ ، فَحَطَّتْ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا ، فَلَمَّا خَشُوا أَنْ تَفْتَاتَ بِنَفْسِهَا ، قَالُوا : إِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ ، قَالَتْ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " قَدْ حَلَلْتِ ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسلمہ کہتے ہیں کہ` ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم میں اس عورت کی عدت کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور اس نے بچہ جن دیا ہو ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ( وضع حمل کے بعد نفاس سے فارغ ہو کر ) وہ شادی کر سکتی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : دونوں عدتوں ( یعنی وضع حمل اور عدت طلاق ) میں سے جس عدت کی مدت لمبی ہو گی اسے وہ عدت پوری کرنی ہو گی ( یعنی چار ماہ دس دن ، اس کے بعد ہی وہ شادی کر سکے گی ) آخر کار ان لوگوں نے کسی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا سبیعہ رضی اللہ عنہا کے شوہر انتقال کر گئے اور ان کے انتقال کے پندرہ دن بعد اس نے بچہ جنا ۔ پھر اسے دو آدمیوں نے شادی کا پیغام دیا ، جن میں سے ایک کی طرف وہ مائل ہو گئی ( اور اس کا بھی خیال اس سے شادی کر ڈالنے کا ہو گیا ) تو جب ( دوسرا شادی کا خواہشمند اور اس کے ساتھی ) لوگ ڈرے کہ یہ تو ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو انہوں نے ( شادی روکنے اور رکاوٹ ڈالنے کی خاطر ) کہا : ابھی تو تم حلال ہی نہیں ہوئی ہو ( تمہاری عدت پوری نہیں ہوئی ہے تم شادی رچانے کیسے جا رہی ہو ) وہ کہتی ہیں ( جب ان لوگوں نے یہ بات کہی ) تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ، آپ نے فرمایا : ” بلاشبہ تم حلال ہو گئی ہو تو جس سے بھی چاہو اس سے نکاح کر سکتی ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3539
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 18233)، مسند احمد (6/311، 319) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1485 | سنن ترمذي: 1194 | سنن نسائي: 3540 | سنن نسائي: 3541 | سنن نسائي: 3542 | سنن نسائي: 3543 | سنن نسائي: 3544 | سنن نسائي: 3545

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3540 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت (کی عدت) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ (انتقال کے وقت) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ۱؎، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ (یہ اختلاف سن کر) ابوسلمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3540]
اردو حاشہ: کسی فتوے اور فیصلے میں ذاتی میلان کی بنا پر جانبداری سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اگر جانبداری کا خدشہ ہو تو قاضی اس کیس کی سماعت نہ کرے بلکہ کوئی دوسرا جج جو غیر جانبداری سے فیصلہ کرسکتا ہو‘ اس کیس کی سماعت کرے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3540 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3541 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔`
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی " جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3541]
اردو حاشہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ سوگ کی مدت تو ہر حال میں ضروری ہے اور وضع حمل بھی۔ چونکہ رسول اللہﷺ کا فرمان اس سے مختلف تھا‘ اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع فرما لیا تھا۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3541 سے ماخوذ ہے۔