سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا باب: بیوہ کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3534
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے ، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی “ ۔