سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَاتِ باب: عدت سے مستثنیٰ مطلقہ عورتوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , " فِي قَوْلِهِ : مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا سورة البقرة آية 106 ، وَقَالَ : وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ سورة النحل آية 101 ، وَقَالَ : يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 39 ، فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ ، وَقَالَ : وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ سورة البقرة آية 228 ، وَقَالَ : وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ سورة الطلاق آية 4 ، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ تَعَالَى : ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا سورة الأحزاب آية 49 " .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما` ( سورۃ البقرہ کی ) آیت : «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ” جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں “ ۔ ( البقرہ : ۱۰۶ ) ( اور سورۃ النمل کی ) آیت : «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» ” اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے “ ۔ ( النحل : ۱۰۱ ) ( اور سورۃ الرعد کی ) آیت : «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ” اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے “ ۔ ( الرعد : ۳۹ ) کے بارے میں فرماتے ہیں : ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎ ، اور ( اس کے بعد ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ( اور یہ جو سورۃ البقرہ کی ) آیت : «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ” طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں “ ۔ ( البقرہ : ۲۲۸ ) اور ( سورۃ الطلاق کی ) آیت : «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ” تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے “ ۔ ( الطلاق : ۴ ) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے ( ان کا عموم ) منسوخ ہو گیا ( سورۃ الاحزاب کی اس ) آیت : «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» سے ” اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو “ ۔ ( الاحزاب : ۴۹ ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما (سورۃ البقرہ کی) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ” جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں۔“ (البقرہ: ۱۰۶) (اور سورۃ النمل کی) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» ” اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے۔“ (النحل: ۱۰۱) (اور سورۃ الرعد کی) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3529]