سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَهَا : حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ ، قَالَتْ : اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ ، فَسَأَلْتُهُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ ، فَقَالَ : " لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِهِ ، فَتَمْكُثِي حَتَّى تَحِيضِي حَيْضَةً ، قَالَ : وَأَنَا مُتَّبِعٌ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ : كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ " .
´عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ` میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ ( حدیث ) بیان کیجئے انہوں نے کہا : میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی ؟ انہوں نے کہا : تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں ( یعنی طہر سے فراغت کے بعد ) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو ۔ انہوں نے کہا : میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ (حدیث) بیان کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی؟ انہوں نے کہا: تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں (یعنی طہر سے فراغت کے بعد) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو۔ انہوں نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیر [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3528]
(2) یہ بات یاد رہے کہ خلع میں رجوع تو نہیں ہوسکتا مگر بعد میں دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے کیونکہ یہ تین طلاق کے حکم میں ہیں۔